.

ہزاروں سعودیوں کے ٹویٹر اکاوئنٹس داعش نے ہیک کر لئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامی "داعش" کے نام سے مشہور عالمی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین نے دو روز میں مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹیوٹر کے 54 ہزار اکاؤنٹس ہیک کرنے کے بعد صارفین کی ذاتی معلومات افشاء کرنا شروع کر دی ہیں۔ ہیک کیے گئے اکائونٹس میں زیادہ تر سعودی شہریوں کے اکائونٹس شامل ہیں جب کہ امریکی خفیہ اداروں "سی آئی اے" اور "ایف بی آئی" کے اہم عہدیداروں کے ٹیوٹر اکائونٹس بھی ہیک کیے گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "داعش" جنگجوئوں نے اتوار کے روز کے بعد ٹیوٹر پر بنائے گئے شہریوں اور اہم شخصیات کے اکائوئنٹس تک رسائی کا سلسلہ شروع کیا جس میں اب تک چون ہزار سے زائد اکائونٹس ہیک کیے گئے ہیں۔ شدت پسند گروپ کی جانب سے یہ کارروائی اپنے الیکٹریکل ماسٹر مائنڈ حسین جنید کے قتل کے انتقام میں شروع کی ہے جس میں اب تک امریکی قومی سلامتی کے اداروں سے وابستہ کئی اہم عہدیداروں کے ٹیوٹر اکائونٹس ہیک کرنے کے بعد ان کی 'خفیہ' معلومات افشاء کی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کی جانب سے ٹیوٹر اکائونٹس ہیک کیے جانے کے بعد صارفین کی ذاتی معلومات چوری کی گئی ہیں جس میں ان کے موبائل فون نمبر، ٹیویٹر پر بھیجے گئے پیغامات اور صارفین کی ذاتی معلومات شامل ہیں۔

سائبر وار کے نام سے شروع کی گئی داعش کی اس نئی مہم میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم نے ٹیوٹر اکاوئنٹس اس لیے ہیک کرنا شروع کیے ہیں کیونکہ امریکیوں نے رواں سال پچیس اگست شمالی شام کے شہر الرقہ میں بغیر پائلٹ کے ایک ڈرون طیارے کی مدد سے میزائل حملہ کر کے تنظیم کے الیکٹریکل ماسٹر مائنڈ حسین جنید کو قتل کر دیا تھا۔ اکائونٹس کی ہیکنگ کا یہ سلسلہ جنید کے قتل کا انتقام ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے ہیک کیے گئے اکائونٹس کے صارفین سے رابطہ کر کے ان کا ردعمل معلوم کیا تو سبھی کو اس بات پر حیران پایا کہ داعش اکائونٹس ہیکنگ اور خفیہ معلومات تک رسائی میں کس قدر مہارت رکھتی ہے۔ صارفین نے "خلافت ہیکرز" کی جانب سے ہیک کیے گئے اکاوئنٹس کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ داعشی جنگجو اہم معلومات کو افشاء کر دیں گے۔

مقتول داعشی کی بیوہ کالے جادو کی ماہر!

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "داعش" کے ہاں سائبر کے شعبے میں کمال مہارت رکھنے والے مقتول جنگجو حسین جنید کی بیوہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد "داعش" میں شمولیت اختیار کی۔

الرقہ میں مبینہ امریکی ڈرون حملے میں تین ماہ قبل ہلاک ہونے والے جنگجو حسین جنید کے والدین پاکستانی نژاد ہیں مگر اس کی بیوہ ایک برطانوی خاتون ہے جو جنید سے عمر میں 23 سال بڑی تھی۔ سنہ 2012ء میں برطانوی پولیس نے جنید کو سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ایک اکائونٹ کو ہیک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا مگر کچھ عرصہ بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا۔

سنہ 2013ء میں داعش میں شمولیت کے بعد جنید برطانیہ سے شام منتقل ہوا اور "ابو حسین البریطانی" کی کنیت اختیار کی۔ سنہ 2014ء میں اس کی بیوہ جو کہ ایک سابق پاپ موسیقارہ تھی نے "داعش" میں شمولیت کا اعلان کرنے کے بعد "ام حسین" کا نام اپنایا۔ ٹیوٹر اکائونٹس پر اس نے متعدد دھمکی آمیز پیغامات بھی پوسٹ کیے جن میں کفار کی گردنیں اتارنے، سربریدہ لاشوں کو الرقہ کی سڑکوں پر لٹکانے اور دیگر اس نوعیت کے پیغامات شامل تھے۔

ام حسین کے بارے میں کئی پراسرار کہانیاں بھی مشہور ہیں۔ ماضی میں موسیقارہ رہنے والی داعشی خاتون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کالے جادو میں بھی ماہر ہے۔