.

شام کو اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے: نیتن یاھو

اسرائیل کا پوتن کے ذریعے تہران کو سخت پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے سخت گی روزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنے دورہ امریکا کے دوران انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے توسط سے ایران کو سخت پیغام بھیجا ہے۔ تہران کو بتایا گیا ہے کہ اگر شام کی سرزمین سے صہیونی ریاست پر فائرنگ کی تو اسرائیلی فوج اس کا بھرپور جواب دے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق واشنگٹن میں امریکن پروگریسو سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے نیتن یاھو نے ایران کے جوہری پروگرام کی روک تھام کے لیے مختلف آپشن کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں ایرانی اسلحہ کے ذخائر کو ماضی میں متعدد مرتبہ تباہ کیا گیا ہے اور آئندہ بھی اسرائیلی فوج شام میں حملے جاری رکھے گی۔ اس موقع پر نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ میں نے روسی صدر ولادی میر پوتن پر واضح کر دیا تھا کہ اگر شام کی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کیا گیا تو ہم اس کا سخت جواب دیں گے۔ ماضی میں کئی باری ہماری افواج نے شامی فوج کے مراکز کونشانہ بنایا۔ اگر ایران نے وادی گولان میں اسرائیل کے خلاف کوئی نیا محاذ کھولا تو تل ابیب اس کا بھی ایسے ہی جواب دے گا جیسے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کو دیا گیا تھا۔

نیتن یاھو کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے روسی صدر پر واضح کر دیا تھا کہ ایران سے شام کے راستے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ تک مہلک ہتھیاروں کی فراہمی کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہمیں پتا چلا کہ شام کے کسی خفیہ ٹھکانے میں ایرانی اسلحہ چھپایا گیا ہے تو ہم اسے تباہ کر دیں گے۔ ہم نے شام میں ایرانی اسلحہ کے کئی مراکز پر بمباری کر کے انہیں نیست ونابود کر دیا جس کے بعد اب شامی فوج کے لیے ایران سے لایا گیا اسلحہ لبنان منتقل کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے شام میں اسلحے کے مرکز پر بمباری کا پہلی بار علانیہ اعتراف کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نیتن یاھو نے کہا کہ ان کا ملک شام کی جنگ میں نہیں کودے گا مگر جب سے روسی فوج نے شام میں مداخلت شروع کی ہے اس کے بعد متعدد مرتبہ روسی اور اسرائیلی جنگی طیاروں کا بھی آمنا سامنا ہوا ہے۔

امن عمل کی شرائط

اپنے امریکی دورے کے دوران بنجمن نیتن یاھو نے جہاں امریکی کانگریس، دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہ نمائوں اور صدر باراک اوباما سے ملاقاتیں کرنی ہیں وہیں انہیں تند وتلخ سوالات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گذشتہ روز صدر اوباما سے ملاقات کے دوران دونوں رہ نماؤں کے درمیان دوطرفہ اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر اوباما نے یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک اسرائیل کا کے دفاع میں کوئی کمی نہیں چھوڑے گا۔

بعد ازاں ایک تقریب سے خطاب کے دوران بھی نیتن یاھو کو ایران کے ساتھ تعلقات اور فلسطینی علاقوں میں غیرقانوی یہودی بستیوں کی تعمیر سےمتعلق سوالات پوچھے گئے۔

نیتن یاھو نے الزام عاید کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس امن عمل میں غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فلسطین۔ اسرائیل امن بات چیت کی بحالی کے معاملے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے امن بات چیت کو مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی سے مربوط کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ غزہ اور جنوبی لبنان سے انخلاءکے بعد تل ابیب نے ان علاقوں کی طرف سے توجہ ہٹا دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ہیں مگر اسرائیل کو فلسطینی ریاست کیجانب سے خطرات کا سدباب کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم غرب اردن کو یہودی کالونیوں میں نہیں ڈبونا چاہتے ہیں اور نہ ہی اسرائیل میں فلسطینی پناہ گزینوں کے سیلاب کو قبول کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں نیتن یاھو نے کہاکہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے ان کے پوچھے گئے کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دیا۔ میرے ساتھ بیٹھنے اور بات چیت سے انکار کیا اور چھ گھنٹے سے زیادہ مذاکرات نہیں کیے، اس سے فلسطینی اتھارٹی کی عدم سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔