.

بشار الاسد کا اقتدار بچانے کا منفرد 'روحانی فارمولا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ شامی تنازع کے کسی بھِی حل کا مرکزی نقطہ بشار الاسد کی قسمت کا فیصلہ نہیں، بلکہ دمشق میں مضبوط حکومت کا قیام ہونا چاہئے۔

فرانس کے چینل 2 کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر روحانی نے [کسی کا نام لئے بغیر] کہا کہ "یہ کسی فرد نہیں، بلکہ سلامتی اور استحکام کا معاملہ ہے۔"

ان کا متذکرہ انٹرویو یورپ 1 ریڈیو پر بھی بیک وقت نشر ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں شام سے دہشت گردی کا خاتمہ اور وہاں امن واستحکام کو یقینی بنانے کی کوششیں کرنی چاہیں۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے مزید کہا: "جہاں تک ملک چلانے کا تعلق ہے تو اس کا اختیار شامیوں کے پاس ہے، انہی نے اپنے رہنما کا فیصلہ کرنا ہے۔"

واضح رہے کہ ایران، علاقے میں شام کا سب سے بڑا اتحادی ہے اور وہ بشار الاسد کی حکومت کو مالی اور عسکری امداد کے ساتھ میدان جنگ میں فوجی مشیران کی خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔

ویانا مذاکرات

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایرانی صدر کے یہ خیالات شام کے موضوع پر ہفتے کے روز ویانا میں مذاکرات کے نئے دور کے آغاز سے قبل سامنے آئے ہیں۔

مذاکرات میں تقریباً بیس ممالک اور بین الاقوامی ادارے شرکت کریں گے تاکہ شامی فوج اور حزب اختلاف کے مختلف گروپوں کے درمیان لڑائی بند کرانے کے طریقے اور قیام امن کے کسی نقشہ راہ پر متفق ہوا جا سکے۔

ستمبر کے اواخر میں روس کے شام پر فضائی حملوں کے بعد سے چار سال سے جاری شامی تنازعہ کے حل کی خاطر سفارتی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔

تنازع کے حل کے لئے ماضی میں کی جانی والی کوششیں بشار الاسد کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات کی وجہ سے ناکام ہوتی رہی ہیں۔ اس جنگ میں ابتک ڈھائی لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ لاکھوں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

شامی حکومت کے اتحادی روس اور ایران مغربی دنیا اور سعودی عرب کی جانب سے بشار الاسد کو اقتدار سے باہر نکالنے کے لئے ڈالے جانے والے دباؤ کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔