.

متنازع ریمارکس، فلسطین میں برطانوی میئر کا بائیکاٹ

'جونسن نے خود کو صہیونی لابی کا ایجنٹ ثابت کیا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے میئر بوریس جونسن ان دنوں اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کےدورے پر ہیں مگر مقامی فلسطینی تنظیموں، ذرائع ابلاغ اور سرکاری اداروں نے مسٹر جونسن کے متنازع ریمارکس کے بعد ان کے استقبال کا بائیکاٹ کیا ہے۔ جونسن کا وہ بیان تنازع کا سبب بنا ہے جس میں انہوں نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کی عظیم جمہوری قوت قرار دیا تھا۔

العربیہ ڈٓاٹ نیٹ کے مطابق لندن میئر کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صہیونی فوج نہتے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے غیرقانونی حربے استعمال کر رہی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں18 بچوں اور چار خواتین سمیت 82 فلسطینی شہید جب کہ 4150 زخمی ہوئے ہیں۔

لندن کے 'اسرائیل نواز' میئر گذشتہ روز غرب اردن کے وسطی شہر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر پہنچے مگر انہیں کسی نے گھاس نہیں ڈالا۔ فلسطین کے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں نے بوریس جنسن کا اعلانیہ بائیکاٹ کیا۔ یوں وہ رام للہ اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر میں قومی حکومت کے سربراہ رامی الحمد اللہ سے ملاقات کے بعد اپنے طے شدہ شیڈول سے ایک گھنٹہ قبل ہی واپس ہو گئے۔

فلسطین کے سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی بوریس جونسن کے اسرائیل کی حمایت میں جاری کردہ ریمارکس پر کڑی تنقید کی۔ کسی صحافی نے ان سے کسی قسم کا سوال نہیں پوچھا اور نہ کسی دوری تنظیم جونسن کی آمد پر ان کا استقبال کیا۔

فلسطینی وزیرتعلیم ڈاکٹر صبری صیدم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ لندن کے اسرائیل نواز میئر کا سب سے پہلے بائیکاٹ انہوں نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جونسن نے اسرائیل کو ایک ایسے وقت میں جمہوری ریاست قرار دیا جب صہیونی فوج کے ہاتھوں پورا فلسطین لہو رنگ ہے۔ ہمارے اسکول، کالج، جامعات، بچے اور خواتین سب نہایت بے دردی سے شہید کیے جا رہےہیں۔ مظلوم فلسطینیوں پر مظالم کو آنکھوں سے دیکھ اور کانوں سے سن کر بھی اگر کوئی صہیونی ریاست کو جمہوری قوت کی سند فراہم کر رہا ہے تو فلسطینی اس کا استقبال نہیں کر سکتے ہیں۔

رام اللہ اور البیرہ گورنری کی خاتون میئر نے بھی بوریس جونسن کا بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جونسن کو بتا دیا گیا ہے کہ ہم اپنے دفتر میں ان کا ستقبال نہیں کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس ان کے لیے ملاقات کا وقت نہیں ہے۔

القدس گورنری کے سربراہ محمد عدنان الحسینی، فلسطین یوتھ فورم، انجینیرز یونین کےسربراہ مجدی الصالح اور دوسری سرکاری اور نجی تنظیموں نے بھی مسٹر جونسن کا بائیکاٹ کیا۔ ان سب کا موقف تھا کہ مسٹر جونسن نے اسرائیل کو جمہوری ریاست قرار دے کر مظلوم اور زخم رسیدہ فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ اس لیے ان کے استقبال کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ادھر بوریس جونسن نے فلسطینی تنظیموں اور سرکاری اداروں کے بائیکاٹ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے فلسطینیوں کی جانب سے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم فلسطینیوں کے لندن میں رابطوں کے حوالے سے پرامید تھے مگر ہمں حالیہ دورے کے دوران سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر بھی جونسن کے بیان پر فلسطینی شہریوں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔