.

یہودی بستیوں کی مصنوعات پر لیبل لگائے جائیں: ای یو

فیصلے نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو نازیوں کا دور یاد کروا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے یورپی یونین کی جانب سے یہودی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیاء پر خصوصی لیبل لگانے کے ہدایت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے نے نازیوں کے یہودی کاروباری بائیکاٹ کی یاد تازہ کر دی ہے۔

جوابی کارروائی کے طور پر اسرائیل نے یورپی یونین کے ساتھ پہلے سے طے شدہ متعدد ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں۔

اپنے دورہ امریکا کے اختتام پر نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ "یورپی یونین کی طرف سے یہودی ریاست میں تیار ہونے والے مصنوعات پر امتیازی لیبل لگانے کے فیصلے نے سیاہ دور کی یاد دلا دی ہے۔ یورپ کو اپنی اس حرکت پر شرم آنی چاہئے۔"

سوشل میڈیا پر انگریزی زبان میں اپنے مختصر ویڈیو کلپ میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ "اس [یورپ] نے غیر اخلاقی فیصلہ کیا ہے۔ اس سے امن کو فروغ نہیں ملے گا۔ اس سے سچائی اور انصاف کو بھی بڑھاوا نہیں ملنے والا۔"

انہوں نے ستمبر میں بھی ایسا ہی موازنہ کرتے ہوئے اسرائیلیوں کو یاد دلایا تھا کہ 'اس وقت کو یاد کریں جب پورپ میں یہودی مصنوعات پر لیبل لگوائے گئے تھے۔"

"نازیوں نے 1933 میں جرمنی پر اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہاں رہنے والے یہودیوں کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ شہریوں کو ایک حکمنامے کے ذریعے ہدایت کی گئی تھی کہ یہودیوں سے کچھ نہ خریدا جائے۔"

یورپی یونین نے فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی بستیوں، اسرائیل میں ضم کئے جانے والے مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات پر خصوصی لیبل لگانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ یاد رہے 1967 کی چھ روزہ عرب۔اسرائیل جنگ میں ان علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔

بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں اور انہیں قیام امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ گردانا جاتا ہے۔ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں قائم یہودی بستیاں اس علاقے میں بنائی گئی ہیں جنہیں فلسطینی اپنے ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ 'دنیا کے دسیوں سرحدی تنازعات میں اس [یورپ] نے صرف اسرائیل ہی کو اپنے فیصلوں کا ہدف کیوں بنایا ہے۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ 'مخصوص مصنوعات پر لیبل لگانے سے اسرائیلی معیشت کو گزند نہیں پہنچے گا بلکہ اس سے وہ فلسطینی متاثر ہوں گے جو ان یہودی بستیوں میں ملازمت کرتے ہیں جہاں یہ اشیا تیار کی جاتی ہیں۔'

اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنے ہاں مقیم یورپی یونین کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے 'امتیازی' قرار دیا۔

وزارت خارجہ کے مطابق یورپی یونین کے سفیر لارس فابورگ اینڈرسن کو بتایا گیا کہ اسرائیلی حکام ای یو کے ساتھ پہلے سے طے ملاقاتیں نہیں کریں گے۔

منگل کے روز اسرائیل کے وزیر توانائی یوال سٹائنز نے ایک پیشگی اقدام کے طور پر لیبل لگانے کی یورپی پابندی کو 'ملع شدہ یہودی منافرت' قرار دیا۔

یہودی بستیوں کے اکاونٹس سے ہونے والی تجارت یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان کامرس کی سرگرمیوں کا انتہائی کم حصہ ہے، تاہم اس کی علامتی اہمیت کئی گنا زیادہ ہے۔

تنظیم آزادی فلسطین [پی ایل او] نے ای یو کے فیصلے کو مثبت اقدام سے تعبیر کرتے ہوئے اسے ناکافی قرار دیا اور کہا کہ ایسی تجارت پر مکمل پابندی لگا دینی چاہئے۔