.

داعش نے پیرس حملوں کی ذمے داری قبول کر لی،ویڈیو جاری

فرانسیسی صدر کا داعش پر پیرس میں دہشت گردی میں ملوّث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے پیرس میں بندوق اور بم حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ان حملوں میں ایک سو اٹھائیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

داعش نے ہفتے کے روز آن لائن جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''آٹھ بھائیوں نے صلیبی فرانس پر یہ حملہ کیا ہے۔انھوں نے بارود سے بھری جیکٹس پہن رکھی تھیں''۔

یہ بیان عربی اور فرانسیسی دونوں زبانوں میں جاری کیا گیا ہے اور اس میں فرانس کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اس نے صلیبی مہم جاری رکھی تو اس پر مزید حملے کیے جائیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کی رات حملوں کے اہداف کا بڑی احتیاط سے انتخاب کیا گیا تھا۔داعش کے جنگجوؤں نے پیرس میں نیشنل اسپورٹس اسٹیڈیم اور بٹاکلان کنسرٹ ہال سمیت چھے مقامات پر بم دھماکے کیے ہیں اور وہاں موجود لوگوں پر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی ہے۔داعش نے کہا ہے کہ فرانس اپنے لڑاکا طیاروں کے ذریعے خلافت میں مسلمانوں پر فضائی حملوں کا قصور وار ہے۔

فرانس امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے گذشتہ ایک سال سے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں اور اس سال ستمبر سے فرانسیسی لڑاکا طیارے شام میں بھی داعش پر بمباری کررہے ہیں۔

داعش نے مذکورہ بیان سے قبل ہفتے کے روز ایک پرانی ویڈیو میں بھی جاری کی ہے۔اس میں فرانس کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اس نے جنگجوؤں پر بمباری جاری رکھی تواس کو حملوں میں نشانہ بنایا جائے گا جبکہ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے داعش ہی کو پیرس حملوں کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

فرانسیسی صدر نے پیرس حملوں کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کا پیچھا کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگجوؤں کی ایک جنگی فعل ہے۔ان کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی تھی مگر اندرون ملک سے ان کا تعلق تھا۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گرد اگر اس طرح کی کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں تو انھیں جان لینا چاہیے کہ وہ فرانس کو بہت پُرعزم پائیں گے۔انھوں نے ملک میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

داعش کے الحیات میڈیا سنٹر کی جانب سے پیرس حملوں کے بعد جاری کردہ ویڈیو پر کوئی تاریخ نہیں دی گئی ہے۔اس ویڈیو میں ایک جنگجو نمودار ہو کر مخاطب ہے۔وہ فرانسیسی مسلمانوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں حملے کریں۔

داعش کا جنگجو عربی زبان میں فرانس (فرانسیسی قیادت) کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ ''جب تک آپ بمباری جاری رکھیں گے،تو آپ بھی امن سے نہیں رہ سکیں گے۔آپ بازار میں جاتے ہوئے بھی خوف زدہ ہوں گے''۔ ویڈیو میں اس جنگجو کے ساتھ بعض دوسرے جنگجو بھی نظر آرہے ہیں۔