.

پیرس میں دہشت گردوں کے حملے، 128 افراد ہلاک

عالمی رہ نماؤں کی جانب سے پیرس حملوں کی شدید مذمت کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دہشت گردی کے حملوں میں 128 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔اس کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے سرحدیں بند کر دی گئی ہیں۔ دارالحکومت میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور آج تمام تعلیمی ادارے بند رہے ہیں۔تاہم ملک میں ٹرین سروس معمول کے مطابق چلتی رہی ہے۔

فرانسیسی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پیرس کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کے حملوں اور دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق پیرس کے بٹا کلان تھیٹر میں یرغمال بنائے گئے ایک سو افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔

فرانس کے صدر نے پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد عوام سے خطاب میں کہا کہ شہر میں فوج طلب کر لی گئی ہے اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے فرانس کی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے۔ پیرس میں 1500 اضافی فوجی تعینات کر دیے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے پیرس کے سات مقامات کو نشانہ بنایا۔ پیرس کے شمال مشرقی علاقے میں ایک ریسٹورنٹ پر فائرنگ کی گئی اور مسلح شخص نے ایک کنسرٹ ہال میں فائرنگ کی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پیرس کے بٹاکلان تھیٹر میں شدت پسندوں نے 100 سے زیادہ افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ پولیس نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ بٹا کلان تھیٹر میں یرغمال بنائے گئے 100 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ تین شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔آپریشن مکمل ہونے کے بعد فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے بٹاکلان تھیٹر کا دورہ کیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ ریسٹورنٹ میں موجود ایک شخص نے خودکار بندوق سے فائرنگ شروع کر دی۔ جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔پیرس میں سٹیڈیم کے باہر تین دھماکے ہوئے ہیں۔ دھماکوں کے وقت سٹیڈیم میں فرانس اور جرمنی کے درمیان فٹ بال میچ ہو رہا تھا۔

سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے فرانس کے صدر بھی موجود تھے لیکن انھیں بہ حفاظت نکال لیا گیا ہے۔ سٹیڈیم کے باہر ہونے والے بم دھماکوں میں تین افراد کی ہلاکت کے اطلاعات ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ حملے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے ہیں یا نہیں۔ پیرس پولیس کے مطابق شدت پسندوں کی تین دھماکوں میں سے دو خودکش حملے تھے۔

عالمی رہ نماؤں کی مذمت

پیرس میں حملوں کے بعد عالمی رہنماؤں نے پیرس میں ہوئے ان حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ امریکا، جرمنی اور دیگر مغربی ممالک نے ان حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے ان حملوں کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پیرس کنسرٹ ہال مبینہ طور پر یرغمالی بنائے گئے افراد کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پیرس میں اس کارروائی پر انہیں ’شدید دھچکا‘ لگا ہے۔ بیان کے مطابق مرکل بظاہر ان دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے دکھ میں شریک ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے بھی ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں واشنگٹن پیرس حکومت کے ساتھ ہے۔ اوباما نے کہا، ’’یہ حملہ صرف پیرس یا فرانس پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ انسانیت پر ایک حملہ ہے۔ یہ ان عالمی اقدار پر حملہ ہے، جو ہم سب کے لیے مشترک ہیں۔‘‘

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ان تاریک لمحات میں کینیڈا، امریکا کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے چاہتے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ پیرس کے حملوں سے انھیں دھچکا لگا ہے اور برطانیہ فرانس کی ہر ممکن مدد کو تیار ہے۔

روس کی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیرس میں ہونے والے حملوں کو ’غیر انسانی قتل قرار دیا ہے‘ جبکہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ فرانس کے ساتھ ہیں۔