.

پیرس حملوں کے بعد ایفل ٹاور غیرمعیّنہ مدت کے لیے بند

فرانسیسی وزیرخارجہ کا داعش مخالف جنگ میں مربوط عالمی کوششوں پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دہشت گردی کے حملوں کے بعد مشہورعالم ایفل ٹاور کو غیر معیّنہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

ایفل ٹاور کے انتظام وانصرام کی ذمے دار کمپنی کی خاتون ترجمان نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ تاریخی مقام تاحکم ثانی بند رہے گا۔واضح رہے کہ روزانہ قریباً بیس ہزار افراد ایفل ٹاور کی سیر کے لیے آتے ہیں۔

ادھر ویانا میں فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس نے کہا ہے کہ پیرس میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد ''فرانس کے ''بین الاقوامی اقدامات''رکیں گے نہیں اور بیرون ملک فرانسیسی تنصیبات اور جگہوں کی سکیورٹی میں اضافہ کیا جائے گا''۔

انھوں نے آسٹروی دارالحکومت میں شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور کے موقع پر کہا ہے کہ ''موجودہ صورت حال میں یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ کو مربوط بنایا جائے''۔

انھوں نے کہا کہ فرانس بیرون ملک اپنے سفارت خانوں، قونصل خانوں، ثقافتی مراکز اور اسکولوں سمیت اپنی تمام جگہوں کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔

لوراں فابیئس کا کہنا تھا کہ ان کا ملک دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ میں کوششوں کو ٹھوس انداز میں مربوط بنانے کا خواہاں ہے اور آج ویانا میں بات چیت کا ایک مقصد بھی یہی ہے کہ ہم داعش کے خلاف بین الاقوامی روابط کو کیسے بڑھا سکتے ہیں۔

ویانا امن مذاکرات میں بیس ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ عہدے دار شریک ہیں مگر ان میں شامی حکومت یا حزب اختلاف کے نمائندے شریک نہیں ہیں۔ان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ رہا تھا اور شامی صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے روس اور ایران اور ان کے مدمقابل مغربی اور عرب ممالک کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔ایران اور روس شامی صدر کی اقتدار سے رخصتی کی مخالفت کررہے ہیں جبکہ ترکی ،سعودی عرب اور ان کے حامی مغربی ممالک تنازعے کے حل کے لیے بشارالاسد کی رخصتی کے حامی ہیں۔