.

پیرس: خود کش بمبار دہشت گرد کا والد اور بھائی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی پولیس نے جمعہ کے روز باٹا کلان تھیٹر پر خود کش حملہ کرنے والے ایک مبینہ دہشت گرد کے والد اور بھائی کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ جمعہ کے روز تھیٹر میں بم دھماکوں اور خود کش حملے میں کم سے کم 89 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پولیس نے باٹا کلان تھیٹر میں خود کش بم حملے کرنے والے دو دہشت گردوں میں سے ایک کے والد کے گھر "رومیی سورسین" کے مقام پر چھاپہ مارا جہاں سے دہشت گرد کا والد حراست میں لیا گیا جب کہ پیرس میں "بونڈوفل" کے مقام پر خود کش بمبار کے ایک بھائی کے گھر کی تلاشی لی گئی جہاں سے اس کے بھائی سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

قبل ازیں اتوار کو پیرس کے پراسیکیوٹر جنرل فرانسو مولان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ جمعہ کے روز دارالحکومت کے مختلف مقامات پر ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 129 ہوگئی ہے جب کہ 352 زخمی ہیں۔

مسٹر مولان نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بننے والے 99 زخمیوں کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔ مارے جانے والوں میں سات دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے چھ دہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ایک حملہ آور فرانسیسی شہری تھا جو برسلز میں رہائش پذیر تھا۔ فرانس اور بیلجیم کی سرحد پر تین مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا تاہم ان کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا ان کا کسی دہشت گرد گروپ سےکوئی تعلق ہے یا نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں فرانسو مولان کا کہنا تھا کہ باٹا کلان تھیٹر سے گولیوں کے سیکڑوں خول ملے ہیں۔ ان میں سے بیشتر خول کلاشنکوف کی گولیوں کے ہیں۔ وہاں سے ایک خود کش جیکٹ اور ایک شامی پاسپورٹ بھی ملا ہے۔ اس پاسپورٹ پر درج نام فرانسیسی انٹیلی جنس کے کسی ریکارڈ میں درج نہیں ہے، تا حال وہ گمنام شخص ہی بتایا جاتا ہے۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی وارننگ کے بعد پولیس نے بولمان ہوٹل اور ایفل ٹاور کے آس پاس کے مقامات کا محاصرہ کیا تھا تاہم بعد ازاں پولیس وہاں سے ہٹ گئی ہے کیونکہ دہشت گردی کا ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے۔