.

پیرس حملہ آوروں کی تلاش جاری ،دو پر فردِ جُرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم میں حکام نے دو مشتبہ افراد پر دہشت گردی کے الزام میں فرد جُرم عاید کردی ہے۔ان دونوں کو پیرس حملوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جبکہ بیلجیئم اور فرانس کی پولیس دہشت گردی کے واقعے میں ملوّث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کررہی ہے۔

برسلز کے پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں افراد پر دہشت گردی کی کارروائی اور ایک دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں فرد جُرم عاید کی گئی ہے جبکہ اختتامِ ہفتہ پر گرفتار کیے گئے پانچ مشتبہ افراد کو کسی فردِ الزام کے بغیر ہی رہا کردیا گیا ہے۔

بیان میں دونوں مشتبہ ملزموں کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔البتہ جن افراد کو رہا کیا گیا ہے،ان میں پیرس حملوں میں شریک ابراہیم کا بھائی محمد عبدالسلام بھی شامل ہے۔پولیس اس کے دوسرے بھائی صلاح کی تلاش میں ہے۔

پراسیکیوٹرز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برسلز میں آج پولیس نے صلاح عبدالسلام کی تلاش اور گرفتاری کے لیے ایک بڑی چھاپہ مار کارروائی کی ہے لیکن اس دوران کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

ابراہیم عبدالسلام نے پیرس میں بولیوارڈ وولٹیئر پر واقع ایک بارکے سامنے خود کو دھماکے سے اڑایا تھا۔ فرانسیسی پولیس نے بھی بین الاقوامی سطح پر اس کے بھائی صلاح کی تلاش شروع کردی ہے اوراس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بھی پیرس حملوں میں ملوّث ہے۔

پیرس میں جمعہ کی شب دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات کرنے والے حکام سے قریبی تعلق رکھنے والے ذرائع نے خیال ظاہر کیا ہے کہ شام میں موجود ایک بیلجیئن شہری کا حملوں میں ہاتھ کارفرما ہوسکتا ہے لیکن بیلجیئن حکام نے اس رپورٹ کو ایک ''افواہ'' قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

برسلز کے پراسیکیوٹر ایرک وان ڈیرسائپٹ نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ ''یہ سب افواہیں ہیں،ان کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے''۔

فرانسیسی ذریعے کے مطابق ''بیلجیئن شہری عبدالحمید اباعود کا یورپ میں متعدد منظم حملوں میں دماغ کارفرما تھا۔تفتیش کار اس کے بارے میں یہ سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ پیرس حملوں میں ممکنہ طور پر ملوث ہوسکتا ہے''۔

آر ٹی ایل ریڈیو کے مطابق ستائیس سالہ اباعود کا تعلق برسلز کے نواحی علاقے مولن بیک سے ہے۔اسی علاقے میں دوسرے جنگجو بھِی رہتے رہے ہیں اور انھوں نے ماضی میں متعدد حملے کیے تھے۔مولن بیک ہی میں پولیس نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔

اس سال فروری میں داعش کے ایک آن لائن میگزین ضابق نے اسی نام والے ایک جنگجو کا انٹرویو شائع کیا تھا اور اس میں اس شخص نے کہا تھا کہ اس نے یورپ کے مختلف ملکوں میں حملوں اور ہتھیاروں کو پہنچانے کے مقصد کے لیے دورہ کیا تھا لیکن کسی بھی ملک کی سکیورٹی فورسز نے اس کی نقل وحرکت کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔

اباعود کا گذشتہ سال مختلف میڈیا ذرائع سے نام سامنے آیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ وہ بیلجیئم سے لڑائی میں حصہ لینے کے لیے شام جانے والے ایک تیرہ سالہ لڑکے کا بڑا بھائی ہے۔

ادھر فرانس میں پولیس نے اتوار کی شب قریباً ایک سو ستر مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں کی تھیں اور تیئیس افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ایک سو سے زیادہ کو ان کے گھروں ہی میں نظر بند کردیا گیا ہے۔فرانسیسی وزیرداخلہ برنارڈ کازینوف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران اکتیس ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ان میں ایک کلاشنکوف رائفل اور ایک راکٹ لانچر بھی شامل ہے۔یہ دونوں ہتھیار جنوب مشرقی شہر لیون کے نزدیک سے ملے تھے۔