.

مصر میں مسافر طیارہ بم دھماکے میں تباہ ہوا: روس

داعش کے خلاف شام میں فضائی حملوں میں شدت لائی جائے: صدر ولادی میر پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے پہلی مرتبہ اس امر کی تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ماہ مصر کے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں اس کا ایک مسافر طیارہ بم دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہوا تھا۔روسی صدر ولادی میر پوتین نے واقعے کے ذمے داروں کو ڈھونڈ نکالنے اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف فضائی حملوں کو تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔

روس اس سے پہلے امریکا اور بعض دوسرے مغربی ممالک کی ان انٹیلی جنس رپورٹس کی تردید کرتا رہا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ مسافر طیارہ دہشت گردی کی کارروائی کے نتیجے میں تباہ ہوا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے سرکاری تحقیقات کا انتظار کیا جانا چاہیے۔

لیکن سوموار کی شب کریملن میں صدر ولادی میر پوتین کے زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں روس کی سکیورٹی سروس ایف ایس بی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹینکوف نے بتایا ہے کہ تباہ شدہ طیارے کے ملبے کے ٹکڑوں اور مسافروں کے سامان میں سے غیرملکی ساختہ دھماکا خیز مواد کے آثار ملے ہیں۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ''ہمارے ماہرین کے تجزیے کے مطابق ایک گھریلو ساختہ بم کو طیارے میں دوران پرواز دھماکے سے اڑایا گیا تھا۔اس میں ایک کلو گرام ٹی این ٹی مواد تھا، جس سے طیارہ فضا ہی میں پھٹ گیا تھا اور اسی وجہ سے اس کے حصے دور دور بکھر گئے تھے۔ بورٹنیکوف نے کہا کہ''ہم بلاخوفِ تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی''۔

اس موقع پر صدر ولادی میر پوتین نے کہا کہ یہ روس کی جدید تاریخ میں ایک خونیں واقعہ تھا۔انھوں نے روسی فضائیہ کو شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں میں شدت لانے کا حکم دیا ہے۔

انھوں نے ملک کی خفیہ سروس کو مسافر طیارے کو بم دھماکے سے اڑانے والوں کا سراغ لگانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ''وہ جہاں کہیں بھی چھپے ہوئے ہیں،ہم ان کا پورے کرّۂ ارض میں سراغ لگائیں گے اور انھیں سزا دیں گے''۔

واضح رہے کہ چند روز قبل روسی وزیراعظم دمتری مید ویدیف نے ایک انٹرویو میں پہلی مرتبہ تسلیم کیا تھا کہ اس مسافر طیارے کی تباہی میں ممکنہ طور پر دہشت گردوں کا ہاتھ کارفرما ہوسکتا ہے۔برطانوی، امریکی اور بین الاقوامی تحقیقات کاروں نے اس شبے کا اظہار کیا تھا کہ طیارے میں دوران پرواز بم پھٹا تھا لیکن مصری حکام اس بات پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ انھیں طیارے پر حملے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔وہ اس کو محض حادثہ ہی قرار دیتے رہے ہیں۔

امریکی اور برطانوی حکام نے انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 31 اکتوبر کو روسی طیارہ جزیرہ نما سیناء کے ساحلی شہر شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرزبرگ کے لیے پرواز کے دوران بم دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہوا تھا۔طیارے میں سوار تمام دو سو چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر روسی سیاح تھے۔عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے میٹرو جیٹ کی اس پرواز کو حملے میں گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔سیناء میں داعش سے وابستہ گروپ کے جنگجو گذشتہ دو سال سے مصری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔