.

سی آئی اے سربراہ سابق جاسوس سنوڈن پر برس پڑے

خفیہ رازوں کے افشا سے امریکا کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی : جان برینن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان برینن قومی سکیورٹی ایجنسی کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن پر برس پڑے ہیں اور کہا ہے کہ ان کی جانب سے خفیہ راز افشا کرنے سے امریکا کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

جان برینن نے واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران سنوڈن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ''اپنے منصبی حلف سے غداری کرنے والے افراد کی جانب سے خفیہ معلومات کے کسی بھی غیرمجاز افشاء سے اس ملک کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں''۔
انھوں نے کہا کہ ''اس طرح کے افراد کو ہیرو کے درجے پر فائز کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔الاّ یہ کہ یہ ملک ایک مرتبہ پھر خود ہی محفوظ ہوجائے''۔

جان برینن نے پیرس میں دہشت گردی کے حملوں کے بعد انٹیلی جنس سروسز کی نگرانی کی صلاحیتوں پر عاید بعض قدغنوں کے خاتمے کا جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ خفیہ معلومات کے افشاء سے عالمی سطح پر دہشت گردوں کا سراغ لگانے کا کام زیادہ چیلنج والا ہوگیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بدھ کو اپنے ایک ادارتی نوٹ میں سی آئی اے کے سربراہ کے اس بیان کو ''شرم ناک'' قراردیا ہے اور لکھا ہے کہ ''پیرس میں حملے ڈیٹا کی کم یابی کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ یہ تو حکام کی پہلے سے موجود معلومات کی بنیاد پر کوئی کارروائی کرنے میں ناکامی کا شاخسانہ تھے''۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ''قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حملوں کی سازش کو عملی جامہ پہنانے سے قبل ہی ان کا سراغ لگانے اور انھیں روکنے کے لیے ضروری اختیارات حاصل ہونے چاہئیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر فعالیت کو قبول کرلیا جائے،شہری آزادیوں کو محدود کرنے کے لیے غیرآئینی حربے آزمائے جائیں اور ان کے نتیجے میں عوام محفوظ بھی نہ ہوں''۔

جب جان برینن سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا دوسرے ممالک کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتا ہے تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ سی آئی اے روس سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خطرے سے نمٹنے کے لیے کام کررہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ پانچ ہفتوں کے دوران میں نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ متعدد مواقع پر گفتگو کی ہے اور ان سے داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے خفیہ معلومات کے تبادلے پر بات چیت کی ہے حالانکہ ہمارے روس کے ساتھ شام اور یوکرین کے معاملے پر پالیسی اختلافات پائے جاتے ہیں۔