.

پیرس حملوں کا ماسٹر مائنڈ اباعود گرفتار نہیں ہوا

سینٹ ڈینس میں پولیس کارروائی، بمبار عورت کا دھماکا، دو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیرس کے پراسیکیوٹر فرانسوا مولنز نے بتایا کہ پیرس کے مضافاتی علاقے سینٹ ڈینس میں پولیس کی جانب سے سات گھنٹوں پر محیط کارروائی میں گرفتار کیے جانے والے آٹھ افراد میں پیرس حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ عبدالحمید اباعود شامل نہیں ہے۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولنز کا کہنا تھا کہ سینٹ ڈینس میں پولیس کی کارروائی کے مقصد شہر میں مزید حملوں کو روکنا تھا۔ انھوں نے بتایا ہے کہ فلیٹ سے مسخ شدہ لاش ملی ہے اور اس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

فرانسوا مولنز نے مزید بتایا ہے کہ اس وقت وہ اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی صحیح تعداد اور ان کی شناخت کے بارے میں نہیں بتا سکتے لیکن اس میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ مسخ شدہ لاش ملی ہے اور یہ ناقابل شناخت ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ نے انٹیلیجنس حکام کے حوالے سے بتایا اباعود کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔

قبل ازیں فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ایک نواحی علاقے میں پولیس کی چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک عورت نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا اور پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک مشتبہ شخص ہلاک ہوا۔

پولیس نے دارالحکومت کے شمال میں واقع نواحی علاقے سینٹ ڈینس کے وسطی حصے میں بدھ کو علی الصباح کارروائی کی ہے اور اس نے پیرس میں گذشتہ جمعہ کو دہشت گردی کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ عبدالحمید اباعود کی گرفتاری کے لیے ایک اپارٹمنٹ عمارت کا محاصرہ کر لیا تھا۔اس دوران پولیس اور مشتبہ افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس سے پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

اسی علاقے میں پیرس فٹ بال اسٹیڈیم واقع ہے جہاں گذشتہ جمعہ کو خودکش بم دھماکے اور فائرنگ کے واقعے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔پیرس حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ستائیس سالہ اباعود کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سینٹ ڈینس میں ایک اپارٹمنٹ میں بعض دوسرے مشتبہ افراد کے ساتھ چھپا ہوا تھا۔

فرانسیسی ذرائع کے مطابق پولیس اور چار مشتبہ افراد کے درمیان کوئی ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہےاور وہاں سے گولیاں چلنے اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔پولیس کے اپارٹمنٹ پر دھاوا بولنے کے بعد ایک خاتون بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے اور ایک اور شخص ہلاک ہوگیا ہے۔پولیس نے کارروائی میں پانچ افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔

بعض عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ سینٹ ڈینس کے وسطی حصے میں واقع ایک مصروف شاہراہ پر کم سے کم پچاس فوجیوں کو تعینات کیا گیا تھا اور پولیس کی بھاری مسلح نفری نے اس کارروائی میں حصہ لیا ہے۔حکام نے کارروائی سے قبل بعض مکینوں سے علاقہ خالی کرا لیا تھا اور دوسرے مکینوں کو مکانوں کے اندر ہی مگر کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی۔

درایں اثناء پیرس میں گذشتہ جمعہ کو دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بننے والی جگہوں میں سے ایک کی فوٹیج منظرعام پر آئی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان حملوں میں نو مشتبہ جنگجوؤں نے حصہ لیا تھا۔تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ مشتبہ حملہ آور مفرور ہے یا یہ پڑوسی ملک بیلجیئم میں گرفتار دو مشتبہ افراد میں سے ایک ہے۔

فرانسیسی پولیس نے ملک کے جنوب مغربی شہروں اریج ،طولوس اور محکمہ حوتے گیرون میں بھی مشتبہ افراد کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔فرانس کے ایک تفتیش کار کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے تحت کی جارہی ہیں اور ان کا پیرس حملوں سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔۔

پیرس میں چھے مقامات پر حملوں میں ایک سو انتیس افراد ہلاک اور ساڑھے تین سو زخمی ہوگئے تھے۔عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر گروپ داعش نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان حملوں کے بعد فرانس میں ہنگامی حالت نافذ ہے اور منگل کو یورپ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔