.

امریکا میں پیرس طرز کے حملوں کا خطرہ نہیں :ایف بی آئی

سراغرسانی میں امریکی ایجنسیاں مکمل تو نہیں بہتر ضرور ہیں: جیمز کومے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر جیمز کومے نے کہا ہے کہ امریکی سرزمین پر پیرس طرز کے کسی حملے کا کوئی قابل اعتبار خطرہ نہیں ہے۔

جیمز کومے اور اٹارنی جنرل لوریٹا لینچ نے جمعرات کو امریکا میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے صحافیوں کو بریفنگ دی ہے۔انھوں نے بتایا کہ امریکی حکام فرانس میں اپنے ہم منصوبوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور امریکا میں پیدا ہونے والے کسی بھی خطرے کی تحقیقات کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم یہاں پیرس طرز کے کسی حملے کے کسی قابل اعتبار خطرے سے آگاہ نہیں ہیں۔ہمیں پیرس میں حملہ کرنے والوں اور امریکا کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''ہم نے اس سال کے دوران داعش سے متاثر ہوکر اس طرح کی کارروائی کرنے کے خواہاں متعدد افراد کو روکا ہے''۔ جیمز کومے کا کہنا تھا کہ ہم نے پیرس حملوں کے بعد دہشت گردی کی تفتیش کی سطح کو بلند کردیا ہے اور ان کی ایجنسی کسی''تقلیدی'' حملوں کے خطرے کا موجب بننے والے دسیوں افراد کا پیچھا کررہی ہے''۔

امریکا کی سراغرسانی کی صلاحیتوں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ''ہم مکمل تو نہیں لیکن بہتر ضرور ہیں''۔انھوں نے امریکیوں پر زوردیا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کو اپنے ارد گرد کے بارے میں صحت مند آگاہی میں تبدیل کردیں اور گردوپیش میں رونما ہونے والے کسی بھی غیر معمولی واقعے کے بارے میں قانون نافذ کرنے والوں اداروں کو فوری اطلاع دیں۔

ایف بی آئی کے سربراہ کا شہریوں سے کہنا تھا کہ ''وہ خوف کو مضمحل کرنے والا نہ بننے دیں۔یہی تو دہشت گرد چاہتے ہیں۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ سایوں میں بھی ان کا تصور کریں۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ انھیں ان کے قد سے بھی زیادہ قد آور سمجھیں''۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل لینچ نے امریکی ایوان نمائندگان میں جمعرات کو شامی تارکین کو پناہ دینے کے لیے کابینہ کی سطح پر جانچ پرتال سے متعلق بل کو غیر عملی اور ناممکن قرار دیا ہے۔

اس بل کے تحت ایف بی آئی، داخلی سلامتی کے ادارے (ہوم لینڈ سیکیورٹی) کے سربراہ اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کو شام سے آنے والے ہر تارک وطن کی سیکیورٹی کلیئرنس دینا ہو گی اور یہ ضمانت دینا ہو گی کہ وہ امریکی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہے۔