.

پناہ گزینوں کی آمد کے خلاف ایوان نمائندگان میں بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوان نمائندگان نے بھاری اکثریت سے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت شام اور عراق سے آنے والے پناہ گزینوں کی روک تھام کے لیے سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے۔ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر شامی اور عراقی پناہ گزینوں کو روکنے کی حمایت پر مبنی بل کو ری پبلیکن پارٹی کے ارکان سمیت ڈیموکریٹس کے کئی ارکان کی بھی حمایت حاصل رہی۔ اگرچہ صدر باراک اوباما نے ایوان نمائندگان میں ایسے کسی بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ویٹو کرنے کا اعلان کیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پناہ گزینوں کی آمد پر پابندیوں سے متعلق بل پر رائے شماری کی گئی۔ بل کی حمایت میں 289 ارکان نے رائے دی جب کہ 137 نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اگلے مرحلے میں بل سینٹ میں پیش کیا جائے گا۔

امریکا میں شامی اور عراقی پناہ گزینوں کی آمد روکنے کی حمایت پر مبنی یہ بل ایک ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب ایک ہفتہ قبل فرانس میں دہشت گردی کے خوفناک واقعات میں ایک سو تیس کے قریب لوگ ہلاک اور تین سو زخمی ہو گئے تھے۔ مبصرین کے خیال میں یہ بل فرانس میں ہونے والی دہشت گردی کے باعث امریکی رائے عامہ کا نیا ثبوت ہے۔

فرانس میں دہشت گردی کی مرتکب تنظیم دولت اسلامی "داعش" نے پیرس میں حملوں کے بعد دیگر مغربی ملکوں میں بھی ایسی ہی کارروائیاں کرنے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد یورپی ملکوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

قبل ازیں وائیٹ ہائوس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ شامی اور عراقی پناہ گزینوں کی آمد روکنے کے کسی بھی بل کو ویٹو کر دیا جائے گا۔ تاہم یہ واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں صدر کی جانب سے ویٹو بھی اتنا آسان نہیں ہے۔ ویٹو کے لیے ایون میں دوبارہ رائے شماری کرانا پڑے گی اور دو تہائی اکثریت یعنی 290 ارکان کی حمایت سے بل کو ویٹو کیا جا سکتا ہے۔ صدر کی جانب سے پناہ گزینوں سے متعلق بل کو ویٹو کیے جانے کا امکان اس لیے کم ہے کیونکہ باراک اوباما کی اپنی جماعت ڈیموکریٹس کے کئی ارکان بھی پناہ گزینوں کی امریکا آمد کے خلاف ہیں۔

اس بل کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی'، داخلی سلامتی کے ادارے 'ہوم لینڈ سیکیورٹی' کے سربراہ اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کو ہر تارک وطن کی سیکیورٹی کلیئرنس دینا ہو گی۔ جس میں انہیں تارکِ وطن کے ماضی کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد یہ ضمانت دینا ہو گی کہ وہ امریکی سکیورٹی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

وائٹ ہائوس کا اور بعض غیرسرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایوان نمائندگان کا بل پناہ گزینوں کو روکنے کا محض ایک سیاسی حربہ ہے جسے عملاً نافذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہ نمائوں کا کہنا ہے کہ عراقی اور شامی پناہ گزینوں کی آمد محدود مدت کا مسئلہ نہیں۔ پناہ گزینوں کی آمد آئندہ کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔

ایوان نمائندگان میں ری پبلیکن پارٹی کے صدر "پول رائن این" کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کو روکنے کی حمایت پر مبنی بل کے پس پردہ مذہبی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے محرکات ہیں۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے پاس شامی پناہ گزینوں کے بارے میں نہایت محدود نوعیت کی معلومات ہو سکتی ہیں جب کہ امریکی داخلی سلامتی کے وزیر جے جونسٹن کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پناہ گزینوں سے درپیش خطرات جانچنے کا کوئی آلہ نہیں ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان نے بنیاد پرست سمجھے جانے والے ارکان عراق اور شام کے شیعہ پناہ گزینوں کی امریکا میں آمد کے حامی ہیں۔ دیگر مذاہب بالخصوص مسلمانوں کی آمد کے سخت خلاف ہیں۔