.

یورپی یونین اپنے حصے کی ذمے داری قبول کرے: فرانس

پیرس میں حملے کرنے والے یورپی ممالک کی سرحدی عبور کرکے آئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیراعظم مینول والز نے کہا ہے کہ پیرس میں حملے کرنے والے بعض مشتبہ افراد یورپ میں تارکین وطن کے بحران سے فائدہ اٹھا کر یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔انھوں نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بارڈر کنٹرول سے متعلق اپنی ذمے داری قبول کرے۔

مینول والزنے ایک فرانسیسی ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین نے اگر سرحدوں پر کنٹرول کو بہتر نہیں بنایا تو اس کا پاسپورٹ فری زون شینگن خطرے سے دوچار ہوجائے گا۔

انھوں نے یہ بیان پیرس حملوں کے رنگ لیڈر عبدالحمید اباعود کے بارے میں نئی تفصیل سامنے آنے کے بعد دیا ہے کہ وہ یورپ میں کسی کی نظر میں آئے بغیر داخل ہوا تھا اور اس کا کسی نے نوٹس نہیں لیا تھا۔

مراکشی نژاد بیلجیئن شہری عبدالحمید اباعود بدھ کو پیرس کے شمالی علاقے میں پولیس کی کارروائی میں ہلاک ہوگیا تھا اور جمعرات کو اس کی شناخت کی تصدیق کی گئی ہے۔وہ گذشتہ دو سال کے دوران یورپ میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں کسی نہ کسی طریقے سے ملوّث رہا تھا۔اب فرانس اور مغربی پریس میں یہ بحث جاری ہے کہ وہ شام سے یورپ پہنچنے میں کیونکر کامیاب ہوا تھا۔

فرانسیسی وزیراعظم نے اپنے ہمسایہ ممالک پر زوردیا ہے کہ اگر وہ سرحدوں پر کنٹرول کے معاملے میں اپنی ذمے داری قبول نہیں کرتے ہیں تو پورے شینگن سسٹم کے بارے میں سوال اٹھایا جائے گا۔

شینگن سسٹم کے تحت یورپی یونین کے چھبیس ممالک کے درمیان شہریوں کو پاسپورٹ کے بغیر سفر کی اجازت ہے لیکن اس سال کے دوران پورے یورپی براعظم کو دوسری عالمی جنگ کے بعد تارکین وطن کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔

اس سال کے دوران جنگ زدہ اور دوسرے ممالک سے آٹھ لاکھ سے زیادہ تارکین وطن اور مہاجرین مختلف ذرائع سے یورپی ممالک میں پہنچے ہیں۔مینول والز کے بہ قول پیرس میں حملے کرنے والے بعض دہشت گردوں نے اس بحران سے فائدہ اٹھایا تھا اور وہ ملک میں آنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ان میں بعض سے پہلے ہی بیلجیئم میں موجود تھے اور بعض جنگجو فرانس میں موجود تھے۔