.

مالی: ہوٹل پر حملے میں 18 ہلاک، تمام یرغمالی رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مالی کے دارالحکومت باماکو میں حکام کے مطابق ریڈیسن بلو ہوٹل میں شدت پسندوں کے قبضے میں اب کوئی یرغمالی نہیں ہے جبکہ ہوٹل کے کمروں میں محصور افراد کو باہر نکالا جا رہا ہے۔ القاعدہ کے شدت پسندوں کے اس حملے میں کم سے کم 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یرغمال بنائے جانے کی یہ کارروائی پیرس میں دہشت گردانہ حملوں کے ٹھیک ایک ہفتے بعد عمل میں آئی ہے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے کہ کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے امن دستے مرنے والوں کی تعداد کم از کم ستائیس بتا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'رائیٹرز' کو بتایا کہ امن فوجیوں نے ہوٹل کے تہ خانے میں بارہ لاشیں دیکھیں جبکہ دوسری منزل پر اُنہیں پندرہ لاشیں نظر آئیں۔

مشتبہ مسلمان انتہا پسندوں نے مالی کے دارالحکومت باماکو کے لگژری ہوٹل ریڈیسن بلُو میں گھُس کر تقریباً 170 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا، جن کی بڑی تعداد غیر ملکیوں پر مشتمل تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ مرنے والوں میں بیلجیم کی علاقائی اسمبلی کا ایک عہدیدار بھی شامل ہے۔

ہوٹل پر مسلح انتہا پسندوں کا حملہ شروع ہونے کے تقریباً نو گھنٹے بعد مالی کے سلامتی کے امور کے وزیر نے بتایا کہ امریکی اور فرانسیسی دستوں کی مدد سے مالی کی اسپیشل فورسز نے ہوٹل پر دھاوا بول دیا تھا اور یہ کہ اب اس ہوٹل میں مزید کوئی یرغمالی موجود نہیں ہے۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکیورٹی کے وزیر سلیف تراوری نے بتایا:’’اب اُن کے ہاتھوں میں مزید کوئی یرغمالی نہیں ہے اور فورسز اُنہیں پکڑنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

اے ایف پی نے ایک غیر ملکی سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک اٹھارہ لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں اور مالی کے ایک فوجی ذریعے کے مطابق دو حملہ آوروں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اٹھارہ ہلاک شُگان میں وہ بھی شامل ہیں۔

ہوٹل میں یرغمالیوں کو بچانے کے لیے مالی کے خصوصی دستوں نے دھاوا بولا تھا، جنہیں امریکی اور فرانسیسی دستوں کی بھی مدد حاصل تھی
تاحال ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ ہوٹل پر اس حملے کا تعلق پیرس میں گزشتہ جمعہ کو کیے جانے والے اُن ہولناک حملوں سے ہے، جن میں ایک سو تیس افراد لقمہٴ اجل بن گئے تھے تاہم حقیقت یہ ہے کہ شمالی افریقہ میں مالی کو مسلمان انتہا پسندوں کے خلاف فرانسیسی فوجی آپریشنز کے ایک بڑے مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔

حملہ آور عالمی وقت کے مطابق صبح سات بجے 190 کمروں کے حامل اس ہوٹل میں ایک ایسی کار میں بیٹھ کر داخل ہوئے تھے، جس پر سفارتی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ہوٹل کے اندر خود کار ہتھیاروں سے کی جانے والی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ سلامتی کے امور کے وزیر سلیف ترواوری کے مطابق یہ حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کرتے وقت ’اللہ اکبر‘ کے نعبرے بلند کر رہے تھے۔

بعد ازاں حملہ آور اِس سات منزلہ عمارت میں گھومتے رہے اور ہر منزل پر جا کر ایک ایک کمرے کی تلاشی لیتے رہے۔ اس دوران وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔

ترکی کے حکام نے بتایا ہے کہ ترک ائیر لائنز کے عملے کے سات ارکان بھی اس لگژری ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ان میں سے تین وہاں سے بچ کر بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ وہ خود بھاگے ہیں یا انھیں حملہ آوروں نے چھوڑا ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق جنگجوؤں نے ان ترکوں کو قرآن مجید کی تلاوت سننے کے بعد رہا کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے اگست میں بھی مسلح افراد نے اسی انداز میں مالی کے وسطی شہر سورے میں ایک ہوٹل پر حملہ کیا تھا اور وہاں موجود افراد کو چوبیس گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھے تھے۔سکیورٹی فورسز کی کارروائی اور فائرنگ کے تبادلے میں چار فوجی ،اقوام متحدہ کے پانچ ملازمین اور چار حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔

مالی میں مارچ 2012ء میں فوجی بغاوت کے بعد طوارق قبائل نے شمالی مالی میں خودمختاری کا اعلان کردیا تھا جبکہ اس دوران القاعدہ کے جنگجو بھی ان کے ساتھ آن ملے تھے اور انھوں نے متعدد شہروں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

لیکن جنوری 2013ء میں فرانسیسی فوج نے ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا اور اس کے فضائی حملوں کے بعد وہ شہری علاقوں کو چھوڑ کر پہاڑی علاقوں کی جانب جانے پر مجبور ہوگئے تھے۔مالی میں اسی سال جون میں طورق قبائل اور حکومت کے درمیان ایک سمجھوتے کے تحت انتقال اقتدار کا عمل پُرامن انداز میں مکمل ہوا تھا لیکن اس کے باوجود مسلح جنگجو اور قبائلیوں نے بہت سے علاقوں پر اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے اور وہ گاہے گاہے شہروں میں حملے کرتے رہتے ہیں۔