.

امریکا داعش مخالف مہم سے پیچھے نہیں ہٹے گا: اوباما

دنیا پیرس یا کسی بھی جگہ شہریوں پر انتہا پسندوں کے حملے قبول نہیں کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک اور اس کے بین الاقوامی اتحادی دولتِ اسلامیہ عراق و شام (داعش) کے خلاف جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ دنیا انتہا پسندوں کے پیرس یا کہیں اور شہریوں پر حملوں کو قبول نہیں کرے گی۔

صدر اوباما اتوار کو ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں اپنے نو روزہ غیرملکی دورے کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ہمارے پاس سب سے طاقتور ہتھیار یہ ہے کہ ہم خوف زدہ نہیں ہیں''۔

انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتین پر زوردیا ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کا ساتھ دیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں مصر میں روس کے مسافر طیارے کی بم دھماکے میں تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ''انھیں (روسی صدر کو) ان لوگوں کا پیچھا کرنا چاہیے جنھوں نے روسی شہریوں کو قتل کیا تھا''۔داعش نے روس کے مسافر طیارے کو جزیرہ نما سیناء پر پرواز کے دوران بم دھماکے سے اڑانے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

امریکی صدر نے ترکی اور فلپائن کے بعد ملائشیا کا دورہ کیا ہے اور وہ آج واشنگٹن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔انھوں نے ترکی کے ساحلی شہر انطالیا میں منعقدہ گروپ 20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کی تھی اور ان سے داعش کے خلاف جنگ اور شام میں جاری بحران کے حل کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔

روس 30 ستمبر سے شام میں داعش اور صدر بشارالاسد کے مخالف دوسرے باغی جنگجو گروپوں پر فضائی حملے کررہا ہے۔صدر اوباما نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''روس شام میں اعتدال پسند باغی جنگجو گروپوں کے خلاف حملوں پر اپنی توجہ مرکوز کررہا ہے''۔

انھوں نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ ''تزویراتی ایڈجسَمنٹ'' کرے اور بشارالاسد کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر امریکا کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ کہا کہ شام میں جاری بحران بشارالاسد کے اقتدار میں رہنے تک حل نہیں ہوگا اور انھیں برسراقتدار رکھنے سے کام نہیں چلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجو ہمیں میدان جنگ میں شکست نہیں دے سکتے ہیں۔اس لیے وہ ہمیں دہشت زدہ کرکے خوف زدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔داعش کی عالمی سطح پر مہارتوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ''وہ قاتلوں کا ایک گروہ ہیں اور سوشل میڈیا کو اس مقصد کے لیے بہتر طریقے سے استعمال کررہے ہیں''۔