.

ایران کا داعش سے وابستہ سیل کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سکیورٹی فورسز نے عراق کے ساتھ واقع اپنے مغربی سرحدی علاقے میں داعش سے وابستہ ایک جہادی سیل کے ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پاسداران انقلاب ایران کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے اتوار کو خبررساں ایجنسی ایسنا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ان گرفتاریوں کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ ''ایرانی سکیورٹی فورسز جنگجوؤں کی جانب سے ایران میں بد امنی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی مانیٹرنگ کررہی تھیں''۔

جنرل جعفری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''داعش کو کثیر سطح کے نیٹ ورکس کی حمایت حاصل ہے۔ان میں سے ایک کی مغربی صوبہ کرمان شاہ میں نشان دہی ہوئی تھی اور اس کو گرفتار کر لیا گیا ہے''۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ کل کتنے لوگ گرفتار ہوئے ہیں اور انھیں کب گرفتار کیا گیا ہے۔البتہ انھوں نے کہا ہے کہ ''باقی گروپ بھی ہمارے انٹیلی جنس راڈار پر ہیں اور ان کے خلاف بھی ضروری کارروائی کی جائے گی''۔

جنرل جعفری کا کہنا تھا کہ جہادیوں کی جانب سے ایران میں پیرس طرز کے حملوں کے بہت کم امکانات ہیں۔کیونکہ ''ہمارے پیشگی سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے اس بات کا امکان نہیں کہ داعش ایران میں کوئی بڑی کارروائی کرسکیں گے۔وہ شاید چھوٹی موٹی کارروائیاں تو کر لیں لیکن ایران میں اس طرح کی امن وامان کی صورت پیدا نہیں کرسکیں گے جس طرح کی انھوں نے دوسرے ممالک میں پیدا کی ہے''۔

ایرانی سپہ سالار نے روس کے شام میں فضائی حملوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''وہ پہلی علاقائی قوت ہے جس نے داعش سے خطرے کا ادراک کیا تھا۔روسیوں نے اہل مغرب سے بہت جلد خطرے کو بھانپ لیا تھا''۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''یقینی طور پر ہر کوئی ملک جو اس خطرے کو سمجھتا ہے،اس جنگ میں شریک ہوسکتا ہے اور جن ممالک کو داعش کے خطرے کا سامنا ہے،ان کی ایک یونین تشکیل دی جارہی ہے''۔