.

خبردار:عربی بولنے پر آپ طیارے سے اتارے جا سکتے ہیں!

پیرس حملوں کے بعد مغرب اسلام فوبیا کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 13 نومبر جمعہ کو ہونے والی دہشت گردی کی وسیع کارروائیوں کے بعد مغربی ممالک بالخصوص امریکا 'اسلام فوبیا' کا شکار ہوا ہے۔ یہاں تک کہ عربی بولنے والوں اور مشرق وسطیٰ کے باشندوں کی علامات رکھنے والوں کو خوف کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ عربی بولنے پر کسی مسافر کو ہوائی جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا جائے۔ مغرب میں عربی زبان بولنے پر آپ کے گھر میں نوٹس بھجوایا جا سکتا ہے اور مختلف اقسام کی نسل پرستی کے مظاہر کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مغرب میں عربی زبان سے خوف کا اندازہ ایک امریکی نژاد فلسطینی ماھر خلیل اور اس کے دوست انس عیاد کے واقعے سے لیا جا سکتا ہے جنہیں امریکی ریاست شکاگو سے فیلاڈیلفیا جانے والی ایک پرواز پر سوار ہونے سے محض اس لیے روک دیا گیا کہ وہ دونوں آپس میں اپنی مادری زبان عربی بول رہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق دونوں نوجوان جب شکاگو کے ہوائی اڈے پر پہنچے، انہیں سائوتھ ویسٹ ایئرلائنز کی پرواز سے دوسری ریاست جانا تھا۔ اس موقع پر ہوائی اڈے کے ایک ملازم نے انہیں کہا کہ "سوری، ہم آپ کو جہاز میں سوار ہونے کی اجازت اس لیے نہیں دے سکتے کہ آپ کو عربی میں بات کرتے سنا گیا ہے۔ مسافر عربی بولنے والوں سے خوف زدہ ہیں اور ہم مسافروں کے تحفظ کی خاطر آپ کو طیارے میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے"۔

بعد ازاں دونوں نوجوانوں نے ہوائی اڈے کے پولیس حکام کے ساتھ بات چیت کی مگر بحث و تمحیص کے بعد انہیں ہوائی جہاز میں سوار ہونے کی اجازت ملی۔ ماھر خلیل کا کہنا ہے کہ جب وہ طیارے میں سوار ہوئے تو مسافر بھی انہیں شک کی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ سب پر ایک اَن دیکھا خوف طاری ہے۔ اس نے بتایا کہ فیلاڈیلفیا میں میرا ایک پیزا سینٹر ہے۔ میں اپنے ہاتھ میں پیزے کا ایک پیکٹ اٹھا رکھا تھا۔ مسافروں نے وہ پیکٹ کھولنے کو کہا۔ میں نے پیزا پیکٹ کھولا اور اس میں رکھے گئے پیزے کے ٹکڑے مسافروں میں تقسیم کر دیے۔

مشرق وسطیٰ خوف کی علامت

عربی زبان کی بول چال کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے باشندوں کی خصوصیات رکھنے والوں سے امریکی اور مغربی خوف زدہ ہیں۔ حال ہی میں شکاگو کی جانب جانے والے مسافر طیارے میں چار افراد کو محض اس لیے روک لیا گیا گیا کہ وہ مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھتے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق سپریٹ ایئرلائن نامی ایک فضائی کمپنی کے طیارے میں چار مسافر سوار ہوئے۔ طیارے میں پہلے سے موجود کسی مسافر نے شکایت کی کہ ایک خاتون اور تین مردوں کا حلیہ مشرق وسطیٰ کے لوگوں کی طرح ہے۔ وہ موبائل فون میں ایک دوسرے کو ایک ویڈیو فوٹیج بھی دکھا رہے تھے۔ اس پر پولیس نے چاروں مسافروں کو طیارے سے اتار لیا۔ انہیں نئے سرے سے تفتیش کے عمل سے گذارا گیا اور عین طیارے کی روانگی کے وقت دوبارہ جہاز میں بٹھایا گیا۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ متعلقہ فضائی کمپنی کی جانب سے مسافروں کے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی پر معذرت تک نہیں کی گئی۔ بعض مسافروں نے کمپنی کے طرز عمل کو نسل پرستی کا مظہر قرار دیا۔

امریکا میں مسلمان مسافروں کے ساتھ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل کئی صدارتی امیدوار مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں سے نفرت کرنے والوں میں ڈونلڈ ٹرمپ سر فہرست ہیں۔ انہوں نے تجزیز دی کہ ہے کہ امریکا میں مقیم مسلمانوں کو مخصوص شناختی کارڈز جاری کیے جائیں تاکہ ان کی پہچان میں آسانی ہو۔

فرانسیسیوں کے رونگٹے کھڑے کردینے والے مطالبات

فرانس میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد وہاں کے انتہا پسندوں اور بنیاد پرست طبقات کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کا ایک نیا موقع ہاتھ آ گیا ہے۔ پیرس میں اسلام کے خلاف ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ادارے"نیشنل آبزرویٹری" کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 13 نومبر کو پیرس میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد ایک ہفتے میں32 مسلمان مخالف کارروائیاں درج کی گئی ہیں۔

رواں سال جنوری میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت میں ملوث اخبار"چالی ایبڈو" پر حملے کے بعد پورے فرانس میں مسلمانوں کے خلاف 170 کارروائیاں کی گئیں۔ ان میں گالم گلوج، نسل پرستی کے مظاہر کے ساتھ ساتھ جسمانی تشدد کے واقعات بھی شامل ہیں۔

فرانس کی دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم نیشنل فرنٹ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم چلائے ہوئے ہے۔ اس تنظیم کے بانی 87 سالہ جان ماری لوین اور 25 سالہ نواسی ماریون ماریچل لوبن کے مسلمانوں کے حوالے سے بیانات رونگٹے کھڑے کر دینے والے ہیں۔ دنوں نے حال ہی میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو اس وقت شام و عراق میں سرگرم دولت اسلامی"داعش" کہلوانے والی تنظیم یرغمالیوں کے ساتھ کر رہی ہے۔ بھرے مجمع میں ان کے سر تن سے جدا کر دیے جائیں۔

ماریون ماریچل کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو فرانس میں کیھتولک مذہب کے پیروکاروں کے برابر مرتبہ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔