.

کیمیائی حملے سے بچاؤ کے لیے اقدامات کرلیے تھے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیردفاع ژاں وائی ویس لی دریان نے کہا ہے کہ ''کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کے حملے کا خطرہ ہوسکتا تھا لیکن ایسے کسی حملے سے بچاؤ کے لیے تمام ضروری پیشگی حفاظتی اقدامات کر لیے گئے تھے''۔

انھوں نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''پیرس حملوں کے تناظر میں فرانسیسی حکام نے کسی بھی امکان کو مسترد نہیں کیا تھا حالانکہ کسی کے لیے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنا بہت ہی پیچیدہ امر ہوتا لیکن اس کے باوجود اس قسم کے کسی خطرے سے بچنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور کیے جارہے ہیں''۔

فرانسیسی وزیردفاع نے خانہ جنگی کا شکار لیبیا کے تمام متحارب فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ متحدہ قومی حکومت کے قیام کے لیے معاہدے پر متفق ہوجائیں تاکہ داعش کو اس ملک پر قبضے سے روکا جاسکے۔

انھوں نے یورپ 1 ریڈیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''لیبیا کی دونوں متحارب حکومتوں کے درمیان معاہدہ ہونا چاہیے،نہیں تو داعش جیت جائیں گے''۔واضح رہے کہ لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں اور ان کے درمیان باہمی جنگ کا داعش کے جنگجو فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

لی دریان نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی بتایا ہے کہ فرانس کے طیارہ بردار بحری بیڑے چارلس ڈی گال کو شام میں داعش کے خلاف کارروائی میں مدد کے لیے علاقے کی جانب روانہ کردیا گیا ہے اور وہ سوموار سے کارروائی کے لیے تیار ہوگا۔

فرانس نے جمعہ 13 نومبر کی شب پیرس میں کنسرٹ ہال ،فٹ بال اسٹیڈیم ،کیفے اور ریستورانوں پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد سے شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔پیرس میں حملوں میں ایک سو تیس افراد ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

فرانسیسی وزیردفاع کے اس انٹرویو سے چندے قبل ترکی کے ایک سکیورٹی ذریعے نے کہا ہے کہ پیرس میں حملے کرنے والوں کو روکنے کے بہت سے مواقع تھے۔اس ذریعے نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ترک حکام نے جنوری میں اپنی سرحد پر پیرس میں خودکش حملہ کرنے والے ایک بمبار کو پکڑا تھا اور اس کو بیلجیئم کے حوالے کیا تھا۔

تب ترک حکام نے ابراہیم عبدالسلام کے بارے میں بیلیجئن پولیس کو بتایا تھا کہ ''اس کو ذہنی غسل دے کر انتہاپسند بنا دیا گیا ہے اور اس کے بارے میں شُبہ ہے کہ وہ شام میں داعش میں شمولیت اختیار کرسکتا ہے''۔