.

ترکی نے روسی طیارہ گرا کر پیٹھ میں چھرا گھونپا: پوتین

داعش کے زیر قبضہ شامی علاقوں سے تیل اور اس کی مصنوعات ترکی جارہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ ترکی نے روس کا لڑاکا طیارہ مار گرا کر پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور اس واقعے کے ماسکو کے انقرہ کےساتھ دوطرفہ تعلقات کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے۔

انھوں نے روس کے ساحلی مقام سوچی میں منگل کے روز اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ ملاقات سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''روسی طیارے کو شام کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا تھا۔اس وقت وہ ترکی کی سرحد سے ایک کلومیٹر دور فضا میں پرواز کررہا تھا اور وہ نشانہ بننے کے بعد شامی علاقے میں چار کلومیٹر اندر گرا ہے۔

روسی صدر کا یہ مؤقف ترکی کے برعکس ہے اور ترک فوج نے اس مؤقف مسترد کردیا ہے۔ترکی کا کہنا ہے کہ اس روسی طیارے کو پانچ منٹ کے دورانیے میں فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر دس مرتبہ خبردار کیا گیا تھا۔ترکی کے ایک سینیر عہدے دار کے بہ قول''ڈیٹا بالکل واضح ہے۔دو روسی طیارے ہمارے سرحدی علاقے کی جانب آئے تھے۔ہم نے انھیں سرحد کے نزدیک آنے اور ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر متعدد مرتبہ خبردار کیا مگر انھوں نے جان بوجھ کر ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی جاری رکھی تھی جس کے بعد ایک طیارے کو مار گرایا گیا ہے''۔

ولادی میر پوتین نے اس واقعے پر سخت لب ولہجے میں کہا کہ''آج کا نقصان دہشت گردوں کے ساتھیوں کی جانب سے ہمیں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔آج جو کچھ ہوا ہے،میں اس کو کوئی اور نام نہیں دے سکتا''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہمارے طیارے کو ایک ایف سولہ لڑاکا جیٹ سے داغے گئے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔یہ طیارہ ترکی کی سرحد سے چار کلومیٹر دور شامی علاقے میں گرا ہے۔جب اس پر حملہ کیا گیا تو اس وقت وہ ترکی کے علاقے سے ایک کلومیٹر دور چھے ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کررہا تھا''۔

صدر پوتین کا کہنا تھا کہ روسی پائلٹوں اور جہازوں نے کسی بھی طریقے سے ترکی کو نہیں دھمکایا تھا بلکہ وہ شام کے اندر دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ میں اپنی ذمے داری پوری کررہے تھے۔

انھوں نے پہلی مرتبہ دبے اور کھلے لفظوں میں ترکی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ'' ہم بہت عرصہ پہلے اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے تیل اور اس کی مصنوعات کی بڑی مقدار ترکی کے علاقے میں پہنچ رہی ہے اوراسی کی فروخت سے جنگجوؤں کو رقوم حاصل ہورہی ہیں''۔

''اوراب ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا گیا ہےاور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں شریک ہمارے طیارے رُک گئے ہیں۔یہ سب کچھ اس حقیقت کے باوجود ہوا ہے کہ ہم نے اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ہم ایک دوسرے کو فضا سے فضا میں واقعات کے بارے میں مطلع کرنے کے پابند ہیں اور ترکی امریکا کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہے''۔ان کا مزید کہنا تھا۔

روسی صدر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''اگر داعش کے جنگجو تیل کی تجارت سے کروڑوں ڈالرز کما رہے ہیں اور انھیں حکومتوں کی مسلح افواج کا تحفظ حاصل ہے تو اس میں اچنبھے والی کوئی بات نہیں،اس لیے وہ اس دیدہ دلیری سے کام کررہے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''آج جو کچھ رونما ہوا ہے،ہم اس کا جائزہ لیں گے۔ان الم ناک واقعات کے روس ،ترکی تعلقات کے حوالے سے سنگین مضمرات ہوں گے''۔ولادی میر پوتین نے ترکی کی جانب سے نیٹو کا اجلاس بلانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی ہے اوراپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس کے بجائے انقرہ کو فوری طور پر ماسکو سے رابطے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔

''یہ تو ایسے لگ رہا ہے جیسے ہم نے ترکی کا طیارہ مار گرایا ہے۔وہ کیا چاہتے ہیں؟ کیا نیٹو کو داعش کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں؟ ہم آج کی طرح کے جرائم کے حوالے سے کوئی رو رعایت نہیں برتیں گے''۔غصے سے بھرے روسی صدر کا کہنا تھا۔