.

ترکی نے شام کے نزدیک روس کا لڑاکا طیارہ مار گرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے روس کے ایک جنگی جیٹ کو شام کی سرحد کے نزدیک مار گرایا ہے۔ترکی کا کہنا ہے کہ اس طیارے کو فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پرمتعدد مرتبہ انتباہ کے بعد نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ روس یہ ثابت کرنے کو تیار ہے کہ لڑاکا جیٹ شام کی فضائی حدود ہی میں تھا۔

1950ء کی دہائی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ نیٹو کے کسی رکن ملک نے روس یا سوویت یونین کا فوجی طیارہ مار گرایا ہے۔نیٹو کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ تنظیم انقرہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ادھر کریملن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین واقعہ ہے اور کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ ترکی کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل خبر ترک ٹی وی نے تباہ شدہ طیارے کی فوٹیج نشر کی ہے۔ایک جنگل نما علاقے میں طیارے کے ملبے سے شعلے اور دھواں بلند ہورہاہے۔اس طیارے کو ''ترکمن پہاڑ'' کے علاقے میں مار گرایا گیا ہے۔

ترکی کی اناطولو نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں جیٹ کے دونوں ہوابازوں کو پیراشوٹ کے ذریعے اترتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اس کے بعد طیارہ گر کر تباہ ہوجاتا ہے۔

روس کی وزارت دفاع نے اپنے ایک ایس یو 24 لڑاکا طیارے کو دوران پرواز مار گرائے جانے کی تصدیق کی ہے لیکن یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کو شام کی حدود میں گرایا گیا ہے۔

ترک فوج نے اس مؤقف مسترد کردیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ اس روسی طیارے کو پانچ منٹ کے دورانیے میں فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر دس مرتبہ خبردار کیا گیا تھا۔ترکی کے ایک سینیر عہدے دار نے کہا ہے کہ ''ڈیٹا بالکل واضح ہے۔ دو روسی طیارے ہمارے سرحدی علاقے کی جانب آئے تھے۔ ہم نے انھیں سرحد کے نزدیک آنے اور ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر متعدد مرتبہ خبردار کیا مگر انھوں نے جان بوجھ کر ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی جاری رکھی تھی۔ ایک روسی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد دوسرا واپس شامی علاقے کی جانب چلا گیا تھا۔