.

یو این ایچ سی آر کا 1000 تارکین وطن کو روکنے پر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے قریباً ایک ہزار مہاجرین اور تارکین وطن کو یونان سے مقدونیہ میں داخلے سے روک دیا گیا ہے اور وہ ایک سرحدی گذرگاہ پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے بعض ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو سرحد پر روکنا بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین ایڈریان ایڈورڈز نے جنیوا میں منگل کے روز ایک نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ ''یورپ میں ایک نئی انسانی صورت حال پیدا ہونے جارہی ہے اور اس کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے''۔

انھوں نے بتایا ہے کہ یونان اور سابق یوگو سلاویہ کی جمہوریہ مقدونیہ کے درمیان سرحد پر بعض لوگوں کو ان کی قومیت کی بنیاد پر روکا جارہا ہے اور مقدونیہ اور سربیا کے درمیان سرحد سے صرف افغانستان ،شام اور عراق سے تعلق رکھنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کو جانے کی اجازت دی جارہی ہے جبکہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو روک دیا گیا ہے۔

مسٹر ایڈورڈز نے بتایا ہے کہ ان دونوں ملکوں کے حکام کے اس اقدام کے خلاف قریباً دو سو افراد سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ان میں زیادہ تر ایرانی ،بنگلہ دیشی اور پاکستانی ہیں اور بعض نے تو بھوک ہڑتال بھی کررکھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''تمام لوگوں کو ان کی قومیت سے قطع نظر پناہ حاصل کرنے کا حق حاصل ہے اور ان کے کیسوں کو انفرادی طور پر سنا جانا چاہیے۔سرحدی گذر گاہوں پر متاثر ہونے والے افراد کو مناسب معلومات فراہم کی جانی چاہییں اور انھیں مناسب مشاورت بھی فراہم کی جانی چاہیے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یو این ایچ سی آر کو اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ہے کہ ان نئی پابندیوں کا براہ راست پیرس حملوں سے کوئی تعلق ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیرس حملوں کے بعد سے پناہ کی تلاش میں آنے والے لوگوں کے لیے ماحول خطرناک ہوگیا ہے اور یہ تشویش کا سبب ہے''۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین کی جانب سے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس سال اب تک سمندر کے راستے سے 858805 مہاجرین اور تارکین وطن کی یورپ میں آمد ہوچکی ہے۔ان میں سے زیادہ تر یونان اور اٹلی میں پہنچے ہیں۔دشوار گذر سمندری سفر کے دوران 3548 افراد مختلف حادثات کا شکار ہوکر ہلاک یا لاپتا ہوگئے تھے۔ان میں سے صرف 148 مہاجرین کو یورپی یونین کے دوسرے رکن ممالک فن لینڈ ،لکسمبرگ اور سویڈن میں منتقل کیا گیا ہے۔