.

تیونس : بس پر بم حملے میں 12 صدارتی محافظ ہلاک

صدر الباجی قائد السبسی نے ملک میں 30 روز کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے دارالحکومت کے وسطی حصے میں سکیورٹی فورسز کی ایک بس پر بم حملے میں بارہ افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہوگئے ہیں۔

دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد تیونس کے صدر الباجی قائد السبسی نے ملک میں تیس روز کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے اور دارالحکومت میں بدھ کی صبح پانچ بجے تک کرفیو لگا دیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت تیونس کی دو مرکزی شاہراہوں کے سنگم پر واقع محمد پنجم ایونیو میں سکیورٹی فورسز کی بس میں بم دھماکا ہوا ہے۔بس میں صدارتی محل کے محافظ سوار تھے اور وہ دارالحکومت کے نواح میں واقع صدارتی محل کی جانب جارہے تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔تیونسی میڈیا کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ بم دھماکا بس کے اندر ہوا ہے اور یہ ایک خودکش حملہ تھا۔بمبار نے اپنی بارود سے بھری جیکٹ کو بس کے اندر دھماکے سے اڑایا ہے۔

صدر الباجی قائد السبسی کے ترجمان معز سناعوئی نے بھی بم دھماکے کو حملہ قراردیا ہے۔اس واقعے کے بعد صدر السبسی نے اپنا یورپ کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔وہ بدھ کو یورپی دورے پر روانہ ہونے والے تھے۔