.

داعش نے تیونس میں بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے تیونس میں صدارتی محافظوں کی بس پر خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

تیونسی دارالحکومت میں منگل کے روز ایک بس میں خودکش بم دھماکے میں صدارتی محل کے بارہ محافظ ہلاک اور سترہ زخمی ہوگئے تھے۔دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد تیونس کے صدر الباجی قائد السبسی نے ملک میں تیس روز کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔داعش نے بدھ کو آن لائن جاری کردہ ایک بیان میں اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تیونس کی وزارت داخلہ نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا ہے کہ بم حملے میں دس کلو گرام بارود استعمال کیا گیا تھا۔حملہ آور نے اپنی کمر پر بندھے ایک بیگ میں یہ بارود رکھا ہوا تھا یا اس نے دھماکا خیز مواد سے بھری بیلٹ باندھ رکھی تھی۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ بس میں بم دھماکے کے بعد ملنے والی تیرھویں لاش اسی دہشت گرد کی ہوسکتی ہے۔اس کی انگلیوں کے نشانوں سے شناخت ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کی انگلیاں ملی ہی نہیں ہیں اور اس کی لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔داعش نے بھی اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا ہے کہ خودکش بمبار کا کہاں سے تعلق تھا۔