.

روس کا مارگرایا گیا لڑاکا جیٹ شام کی حدود میں تھا: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے یقین ظاہر کیا ہے کہ منگل کے روز ترک ایف سولہ طیاروں کی کارروائی میں مارگرایا گیا روس کا لڑاکا جیٹ شام کی فضائی حدود میں پرواز کررہا تھا۔یہ بات ایک امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہی ہے۔البتہ اس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس روسی طیارے نے مختصر وقت کے لیے ترکی کی فضائی حدود میں دراندازی کی تھی۔

اس عہدے دار نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ بدھ کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ نتیجہ لڑاکا جیٹ کی گرمی کی علامت کا سراغ لگانے کے بعد اخذ کیا گیا ہے''۔

ترکی کا کہنا ہے کہ اس روسی طیارے کو پانچ منٹ کے دورانیے میں فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر دس مرتبہ خبردار کیا گیا تھا۔ترکی کے ایک سینیر عہدے دار کے بہ قول:''دو روسی طیارے ہمارے سرحدی علاقے کی جانب آئے تھے۔ہم نے انھیں سرحد کے نزدیک آنے اور ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر متعدد مرتبہ خبردار کیا مگر انھوں نے جان بوجھ کر فضائی حدود کی خلاف ورزی جاری رکھی تھی جس کے بعد ایک طیارے کو مار گرایا گیا تھا''۔

روسی فوج کے ایک جنرل نے بتایا ہے کہ طیارے کے دو ہوابازوں میں سے ایک ہلاک ہوگیا ہے۔ دوسرے پائیلٹ کو ترکمن فورسز نے پکڑ لیا تھا اور وہ اس وقت ان کے پاس ہے۔سی این این ترک کی رپورٹ کے مطابق دوسرے پائیلٹ کی تلاش کی جارہی ہے لیکن روسی جنرل نے اس کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور امریکی صدر براک اوباما نے منگل کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے طیارہ مارگرائے جانے کے واقعے کے بعد کشیدگی کم کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کے اعادے سے بچنے سے اتفاق کیا ہے۔

درایں اثناء امریکی فوج کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ترکی نے طیارے کو گرانے سے قبل روسی پائلٹوں کو متعدد مرتبہ خبردار کیا تھا لیکن انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ''ہم یہ تمام گفتگو سن سکتے تھے کیونکہ یہ اوپن چینلز پر ہورہی تھی''۔

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ ترک پائیلٹوں نے دس مرتبہ روسی ہوابازوں کو انتباہ کیا تھا لیکن انھوں نے اس کا جواب نہیں تھا۔اس کے جواب میں کرنل وارن نے کہا کہ ''ہاں میں اس کی تصدیق کرسکتا ہوں۔البتہ تب فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ روسی طیارے شام ،ترکی سرحد کے کس جانب پرواز کررہے تھے''۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ترکی نے روس کا لڑاکا طیارہ مار گرا کر پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے اور اس واقعے کے ماسکو کے انقرہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے سنگین مضمرات ہوں گے۔

انھوں نے روس کے ساحلی مقام سوچی میں منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''روسی طیارے کو شام کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا تھا۔اس وقت وہ ترکی کی سرحد سے ایک کلومیٹر دور فضا میں پرواز کررہا تھا اور وہ نشانہ بننے کے بعد شامی علاقے میں چار کلومیٹر اندر گرا تھا''۔

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے اس بیان کے ردعمل میں کہا ہے کہ ہمیں اپنی زمینی اور فضائی حدود کو پامال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا بین الاقوامی حق حاصل ہے اور یہ ہماری قومی ذمے داری بھی ہے۔

ادھر کریملن کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگین واقعہ ہے اور کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ 1950ء کی دہائی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ نیٹو کے کسی رکن ملک نے روس یا سوویت یونین کا فوجی طیارہ مار گرایا ہے۔نیٹو نے اس واقعے کے بعد برسلز میں تنظیم کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا جس میں نیٹو کے سفارت کاروں نے ترکی پر زوردیا ہے کہ معاملے کو ٹھنڈا کرے۔

اجلاس میں شریک نیٹو کے اٹھائیس رکن ممالک کے نمائندوں میں سے کسی نے بھی روس کے اقدامات کا دفاع نہیں کیا ہے۔ایک سفارت کار کا کہنا تھا کہ اس معاملے سے کسی اور طریقے سے بھی نمٹا جاسکتا تھا اور ترک طیاروں کو روسی لڑاکا جیٹ کو حصار میں لے کر شامی سرحد کی جانب لے جانا چاہیے تھا۔