.

شامی کمانڈو یونٹ نے ایک روسی پائیلٹ کو بچا لیا

پیراشوٹ کے ذریعے اترنے والے دوسرے روسی پائیلٹ کو باغیوں نے ہلاک کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ایف 16 لڑاکا طیاروں کے میزائل حملے میں تباہ ہونے والے روس کے لڑاکا جیٹ کا ایک پائیلٹ شامی صوبے اللاذقیہ میں ایک ائیربیس پر بدھ کے روز پہنچ گیا ہے۔شامی اور روسی حکام کا کہنا ہے کہ اس پائیلٹ کو شامی فوج کے کمانڈو یونٹ نے بچایا ہے۔

روسی وزیردفاع سرگئی شوئیگو نے خبر رساں ایجنسیوں کو بتایا ہے کہ اس ہواباز کو بارہ گھنٹے کے آپریشن کے بعد بازیاب کرایا گیا ہے۔بدھ کو علی الصباح اس کا پتا چلا تھا۔اب وہ شامی حکومت کے کںٹرول والے علاقے میں واقع ایک روسی ائیربیس پر محفوظ اور بہتر ہے۔

شام کی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک خصوصی یونٹ نے روسی فورسز کے ساتھ مل کر تباہ شدہ طیارے کے دونوں ہوا بازوں کی بازیابی کے لیے آپریشن کیا ہے اور ان میں سے ایک کو بچا لیا ہے۔روسی صدر ولادی میر پوتین نے بھی ایک پائیلٹ کو بچائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ''ساڑھے چار مربع کلو میٹر کے علاقے شامی اور روسی فورسز نے آپریشن کیا تھا۔اس علاقے میں ''دہشت گردوں'' کا مضبوط گڑھ ہے''۔

فرانس میں متعیّن روسی سفیر الیگزینڈر اولوف نے یورپ 1 ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لڑاکا جیٹ سے پیرا شوٹ کے ذریعے اترتے ہوئے ایک پائیلٹ زخمی ہوگیا تھا۔اس کو جہادیوں نے پکڑ لیا تھا اور پھر اس کو ہلاک کردیا ہے۔دوسرا پائیلٹ ان سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اس کو شامی فوج نے بچا لیا ہے۔

درایں اثناء برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے جنگ زدہ ملک میں اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ ایک باغی گروپ نے روسی طیارے کو ایک ٹینک شکن میزائل سے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس باغی گروپ کی جانب سے یہ دعویٰ اس حقیقت کے باوجود سامنے آیا ہے کہ روس کے اس لڑاکا جیٹ کو سرحدی علاقے میں ترکی کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بہ قول اس طیارے کو ترکی کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کا ملبہ شام کے سرحدی علاقے میں گرا تھا۔

دوسری جانب روسی صدر ولادی میر پوتین نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ طیارے پر جب میزائل داغا گیا تو اس وقت وہ ترکی کے سرحدی علاقے سے ایک کلومیٹر دور شام کے علاقے میں فضا میں پرواز کررہا تھا اور وہ چار کلومیٹر دور شامی علاقے میں گرا تھا۔اس واقعے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

ترکی کے نجی ٹیلی ویژن چینل خبر ترک ٹی وی نے تباہ شدہ طیارے کی فوٹیج نشر کی تھی۔اس میں ملبے سے شعلے اور دھواں بلند ہو رہا ہے۔ اس طیارے کو ''ترکمن پہاڑ'' کے علاقے میں مار گرایا گیا تھا۔ترکی کی اناطولو نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں جیٹ کے دونوں ہوابازوں کو پیراشوٹ کے ذریعے اترتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔اس کے بعد طیارہ گر کر تباہ ہوجاتا ہے۔