.

روس کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے : ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ترکی شام کی سرحد کے نزدیک روس کا لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کے بعد کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''ترکی نے اپنی سلامتی اور شام میں اپنے بھائیوں کے دفاع کے لیے اقدام کیا تھا''۔

ترک صدر نے بدھ کے روز استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''روسی جیٹ کو ترکی کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا تھا لیکن وہ تباہ ہونے کے بعد شام کی حدود میں گرا تھا''۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ اس طیارے کے کچھ حصے ترکی کی حدود میں گرے تھے جس سے دو شہری زخمی ہوگئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتے ہیں ،ہم صرف اپنی سکیورٹی اور اپنے بھائیوں کے حقوق کا دفاع کررہے تھے۔اس واقعے کے بعد ترکی کی شام کے بارے میں پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور ہم شامی سرحد کے دونوں جانب انسانی امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ہم مہاجرین کی نئی لہر کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے''۔

واضح رہے کہ ترکی شام کے سرحدی علاقے میں روس کے ترکمانوں پر فضائی حملوں پر نالاں ہے۔ترکمن نسلی اعتبار سے شامی ترک ہیں اور روسی طیاروں نے دوسرے جنگجو گروپوں کے علاوہ ان کے دیہات پر بھی بمباری کی ہے۔ ترکی نے اکتوبر کے بعد سے متعدد مرتبہ اپنی سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں پر روس کو خبردار کیا تھا اور گذشتہ ہفتے انقرہ میں متعیّن روسی سفیر کو طلب کر کے ان سے شام میں ترکمن دیہات پر بمباری پر احتجاج کیا تھا۔

ترک صدر نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کے اس موقف کو بھی مسترد کردیا ہے کہ روسی طیارے شام کی فضائی حدود میں پروازیں کررہے تھے اور صرف داعش کے جنگجوؤں پر بمباری کررہے تھے۔طیب ایردوآن نے کہا:''یہ کہا جارہا ہے کہ روسی طیارے اس علاقے میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے موجود تھے۔پہلی بات یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش اللاذقیہ اور ترکمانوں کے علاقے میں موجود ہی نہیں ہے۔اس لیے ہمیں بے وقوف نہ بنایا جائے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے روس کے لڑاکا طیارے کو مار گرانے سے گریز کی بہت کوشش کی تھی لیکن اس کے صبر کا امتحان لیا گیا ہے اور جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو اس نے یہ کارروائی کی ہے۔

اقتصادی انتقام

ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اگر ترکی اور روس کے درمیان لڑاکا جیٹ کو مار گرائے جانے کے واقعے پر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے دونوں ملکوں کی معیشتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ترکی اس وقت قریباً اپنی توانائی کی تمام ضروریات روس سے پوری کرتا ہے۔ وہ روس سے 60 فی صد گیس اور 35 فی صد تیل درآمد کرتا ہے۔روس کی سرکاری جوہری توانائی کارپوریشن (رستم) ترکی میں بیس ارب ڈالرز کی لاگت سے پہلا جوہری پاور اسٹیشن تعمیر کرنے کے منصوبے پر کام شروع کرنے والی ہے اور روس سے ترکی تک گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر بھی بات چیت کی جارہی ہے۔دوسری جانب ترکی کی تعمیراتی اور بیوریج کمپنیاں روس میں کام کررہی ہیں۔

جرمنوں کے بعد روسی شہری دوسرے نمبر پر ترکی میں سیروسیاحت کے لیے جاتے ہیں اور سیاحت کی مد میں ترکی کو قریباً چار ارب ڈالرز سالانہ کی آمدن حاصل ہوتی ہے لیکن روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے منگل کے روز اپنے ملک کے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اب ترکی جانے سے گریز کریں۔اس کے بعد روس کی بڑی ٹور کمپنی نے لوگوں کو ترکی کی سیروسیاحت کے لیے بھیجنے کا سلسلہ عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔