.

امریکا پر حملوں کے خطرے کی ٹھوس معلومات نہیں: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہےکہ ان کے پاس امریکا پر دہشت گردی کے حملوں کے خطرات سے متعلق کسی قسم کی ٹھوس معلومات نہیں ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک مختصر نیوز بریفنگ کے دوران صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ان کے ملک پر دہشت گردانہ حملوں کے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کے پاس ایسے خطرات کی ٹھوس معلومات نہیں ہیں۔

صدراوباما کا کہنا تھا کہ شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامی"داعش" کہلوانے والی تنظیم کے خلاف 65 ملکوں کا اتحاد وجود میں آ چکا ہے اور اب تک شام اور عراق میں تنظیم کے مراکز پر 8000 فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے داعش کا تعاقب جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ داعشی دہشت گرد جہاں بھی جائیں گے انہیں پکڑا جائے گا۔ امریکی خفیہ اداروں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ انٹیلی جنس ادارے بیدار اور چوکنے ہیں۔ ملک کی سلامتی کسی خطرے میں نہیں پڑنے دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں صدر باراک اوباما نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہبی تشخص نہیں۔ فرانس میں ہونے والی دہشت گردی پورے یورپ کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔