.

ترکی سے خطرہ:پوتین کا ایس 400 میزائل شام بھیجنے کا حکم

روسی وزیردفاع نے ترکی کے ساتھ تمام فوجی مراسم منقطع کرنے کا اعلان کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور روس میں شام کے سرحدی علاقے میں ایک لڑاکا طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور روس نے شام میں اپنے زیر استعمال فضائی اڈے پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے بدھ کو شام کے ساحلی صوبے اللاذقیہ میں واقع حمیمین ائیربیس پر ایس 400 میزائل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔یہ ائیربیس ترکی کی سرحد سے صرف پچاس کلومیٹر دور واقع ہے۔یہ میزائل چار سو کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

روسی بحریہ کے میزائل کروزر موسکوا کو بھی شام کے بین الاقومی پانیوں میں بھیج دیا گیا ہے تاکہ شام میں داعش اور دوسرے باغی جنگجو گروپوں کے خلاف فضائی مہم میں شریک روسی طیاروں کا کسی خطرے کی صورت میں تحفظ کیا جاسکے۔اس کروزر پر طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل دفاعی نظام نصب ہے۔

روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ میزائل دفاعی نظام ہمارے طیاروں کو کسی بھی خطرے کی صورت میں ممکنہ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انھوں نے ترکی کے ساتھ تمام فوجی مراسم بھی منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب تمام روسی بمباروں کے ساتھ شام کی فضائی حدود میں پروازوں کے دوران لڑاکا طیارے ہوں گے۔

روس نے یہ میزائل دفاعی نظام ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے اس بیان کے باوجود بھیجا ہے کہ ان کا ملک روس کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا ہے جبکہ روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کے لڑاکا طیارے کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سرحدی علاقے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

روس کے اس لڑاکا جیٹ کومنگل کے روز سرحدی علاقے میں ترکی کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بہ قول اس طیارے کو ترکی کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کا ملبہ شام کے سرحدی علاقے میں گرا تھا۔

روسی صدر ولادی میر پوتین کا مؤقف ہے کہ طیارے پر جب میزائل داغا گیا تو اس وقت وہ ترکی کے سرحدی علاقے سے ایک کلومیٹر دور شام کے علاقے میں فضا میں پرواز کررہا تھا اور وہ چار کلومیٹر دور شامی علاقے میں گرا تھا۔اس واقعے کے بعد سے دونوں ملکوں کے لیڈروں کے جانب سے تندوتیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔