.

سعودی بن لادن گروپ 15 ہزار ملازمین کو فارغ کردے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی بڑی تعمیراتی کمپنی بن لادن گروپ اپنے ملازمین کی تعداد میں پندرہ ہزار کی کمی کررہی ہے لیکن اس سے بن لادن گروپ کے زیر عمل تعمیراتی منصوبوں پر جاری سرگرمیوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

سعودی عرب کی ایک مقامی نیوز ویب سائٹ ''سبق'' کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بن لادن گروپ کے کل ملازمین کی تعداد قریباً دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے ایک سعودی ذریعے کے حوالے سے بن لادن گروپ میں ملازمین کی چھانٹیوں کی اطلاع دی ہے لیکن اس کی جانب سے الریاض ،جدہ اور دبئی میں واقع کمپنی کے دفاتر سے رابطہ کرنے پر ملازمین کی تعداد میں کمی کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی تعمیراتی صنعت سے وابستہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ مملکت کا تعمیراتی شعبہ بہت نرم ہے اور عمومی طور پر اس میں غیریقینی کی صورت حال پائی جاتی ہے ۔اس لیے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کس منصوبے پر پہلے توجہ مرکوز کی جائے گی کیونکہ کمپنیوں کو بھی کوئی یقین نہیں ہوتا ہے کہ کون سا منصوبہ کب شروع کیا جائے گا اور اس کو کتنے عرصہ میں پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گا۔

ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ بن لادن گروپ سے پندرہ ہزار ملازمین کو فوری طور فارغ کیا جارہا ہے اور باقی کو عارضی طور پر جدہ میں اربوں ڈالرز مالیت کے ہوائی اڈے کی تعمیر کے منصوبے پر منتقل کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سعودی وزارت محنت کی اصلاحات کے تحت اب نجی شعبے میں سعودی شہریوں کو کھپایا جارہا ہے اور انھیں ترجیحی بنیاد پر ملازمتیں دینے پر زوردیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے 2011ء کے بعد سے تعمیراتی فرموں کے لیے خاص طور پر غیرملکی ورکروں کو ملازمتیں دینا ایک مہنگا سودا بن چکا ہے۔

ستمبر میں بن لادن گروپ کی حالیہ حج سیزن کے دوران مسجد الحرام کے توسیعی منصوبے پر کام میں مصروف ایک بڑی کرین طوفان کے نتیجے میں گر گئی تھی جس سے مسجد الحرام میں ایک سو سات افراد شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد سعودی حکومت نے بن لادن گروپ کو نئے تعمیراتی ٹھیکے دینے کا عمل معطل کردیا تھا اور اس کے ڈائریکٹروں کے بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی تھی۔

حکومت کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کرین مناسب طریقے سے نصب نہیں کی گئی تھی اور متعلقہ انجینیر کو واقعے کا ذمے دار قرار دیا گیا تھا۔بن لادن گروپ نے اپنی معطلی کے ردعمل میں کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔