.

شام میں فوجی کارروائی کا امکان اب بھی موجود ہے: الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ شام میں عسکری کارروائی کا آپشن موجود ہے۔ سعودی عرب بشار الاسد کو ایوان اقتدار سے باہر نکالنے کی جدوجہد کرنے والے اپوزیشن جنگجوؤں کی حمایت جاری رکھے گا۔

سعودی عرب کے دورے پر آئے اپنے آسٹرین ہم منصب سباسٹین کورٹز کے ہمراہ ریاض میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عادل الجبیر نے کہا کہ ان کا ملک شام کےمختلف اپوزیشن گروپوں سے رابطے میں ہے تاکہ ویانا کے امن مذاکرات سے پہلے وہ سعودی عرب میں اپنا اجلاس منعقد کر کے کسی متفقہ موقف پر پہنچ سکیں۔

ڈاکٹر الجبیر نے نیوز کانفرنس کو بتایا کہ فوجی کارروائی کا امکان ابھی تک موجود ہے اور شامی اپوزیشن کی حمایت اب بھی جاری ہے۔
"اگر شامی اپوزیشن گروپوں کی سعودی عرب میں کانفرنس منعقد ہوئی تو اس کا مقصد شامی اپوزیشن کو متحد کرنا اور انہیں ایک متحدہ موقف اختیار کرنا ہو گا تاکہ کسی پرامن حل تک پہنچ کر بشار الاسد کا اقتدار ختم کرایا جا سکے۔"

شامی بحران کے حل کی خاطر ویانا میں بین الاقوامی مذاکرات کا ایک لاحاصل دور ہو چکا ہے جس میں سعودی عرب، ایران، ترکی اور یو این کے پانچ مستقل ارکان بشمول امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین نے ایک منصوبہ پیش کیا تھا ۔ اس منصوبے کے تحت شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنوری کے اوائل میں باقاعدہ مذاکرات کا انعقاد بھی شامل تھا۔

تنازع کے حل کی راہ میں مزاحم کوششوں میں سرفہرست شامی اپوزیشن کی صفوں میں انتشار بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی سفارتی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتی۔

شامی اپوزیشن ترکی میں موجود شامی قومی اتحاد کے نام سے ایک سیاسی فورم اور متنوع باغی گروپ شامل ہیں۔ یہ گروپ کسی متحدہ فوجی نظام کے تابع نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی فورم کو جوابدہ ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ وہ دہشت گردی لسٹ میں شامل کسی بھی گروپ سے معاملہ نہیں کرے گا۔