.

الجزائر : سابق انٹیلی جنس چیف کو پانچ سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے فوج کے تحت ایک سراغرساں ادارے سابق سربراہ کو ایک فوجی عدالت نے سرکاری دستاویزات ضائع کرنے اور حکم عدولی کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عبدالقادر آیت العرابی المعروف جنرل حسن کے خلاف الجزائر کے دوسرے بڑے شہر عوران میں فوجی عدالت نے بند کمرے میں مقدمے کی سماعت کی ہے۔الجزائر کی خفیہ ایجنسی کے کسی اعلیٰ افسر کے خلاف اس طرح کا یہ پہلا مقدمہ چلایا گیا ہے۔

ان کے وکیل خالد بورایو نے سزا کو انتقامی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ''ان کے موکل کو ان کی ڈھلتی ہوئی عمر ،خراب صحت اور دہشت گردی مخالف جنگ میں کردار کا بھی کوئی فائدہ نہیں دیا گیا ہے''۔

صحافیوں کو بھی عدالتی کارروائی سماعت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے حتیٰ کہ ججوں کی جانب سے بند کمرے کی سماعت کے لیے حکم سے قبل بھی صحافیوں کو عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

واضح رہے کہ جنرل حسن گذشتہ دو عشروں کے دوران الجرائری فوج کی اسلامی گروپوں کے خلاف جنگ میں ہراول دستے میں رہے ہیں۔انھیں 2013ء کے آخر میں ایک فوجی عدالت کے حکم پر جبری ریٹائر کردیا گیا تھا اور ان کی نگرانی کی جارہی تھی۔انھیں اگست میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں نے ان کی برطرفی کو صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی انٹیلی جنس سروسز پر مضبوط گرفت کی علامت قرار دیا ہے۔بعض لوگ ان خفیہ اداروں کو الجزائر میں ایک متوازی ریاست قرار دیتے ہیں۔

الجزائری صدر نے ستمبر میں طاقتور خفیہ ایجنسی ڈی آر ایس کے سربراہ جنرل محمد مدین المعروف جنرل توفیق کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔وہ پچیس سال تک اس خفیہ ادارے کے سربراہ رہے تھے۔

جنرل حسن کے وکلاء نے جمعرات کو الجزائری اخبارات میں شائع ہونے والے بیانات میں کہا ہے کہ ان کے موکل اعلیٰ سطح پر جاری سیاسی کشمکش میں قربانی کا بکرا بن گئے ہیں۔دو وکلاء بورایو اور احمد طفیلی طیب کا کہنا تھا کہ سابق جنرل ان بہادر افسروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے ملک کو دہشت گردی کے خطرے سے بچایا تھا۔