.

اختلافات ختم کرنے کے لئے یمن کابینہ میں اہم تبدیلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگ سے تباہ حال ملک یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے حکومت میں اختلافات کے تناظر میں اپنی کابینہ میں نئے وزیر خارجہ اور داخلہ شامل کئے ہیں۔

کابینہ کی اہم وازرتوں میں حالیہ تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب سرکاری فوج ایران نواز حوثی جنگجوؤں کو ملک کے جنوب مغربی صوبے تعز سے بیدخل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ واضح رہے سرکاری فوج کی اس مہم میں کامیابی سے دارلحکومت صنعاء پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یمنی کابینہ میں ریاض یاسین کی جگہ سرکردہ حکومتی امن مذاکرات کار عبدالمالک المخلافی کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

ریاض یاسین کی تبدیلی کا مقصد صدر اور وزیر اعظم کے درمیان تعلقات کو ہموار کرنا بتایا جاتا ہے کیونکہ مسٹر ریاض کے صدر منصور ھادی سے بہت اچھے تعلقات تھے لیکن وزیر اعظم خالد بحاح سے ان کے مراسم ٹھیک نہج پر نہیں تھے۔

وزیر اعظم کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ کابینہ میں رد وبدل کی بنیادی وجہ ریاض یاسین کے خالد بحاح سے اختلافات ہیں۔صدارتی فرمان کے مطابق جنرل عبد الحذیفی کو وزیر داخلہ کے منصب سے ہٹا کر یمن کی انٹیلیجنس سروسز کا سربراہ بنا دیا گیا ہے جبکہ جنرل حسین عرب اب یمن کے نئے وزیر داخلہ اور ڈپٹی پرائم منسٹر ہوں گے۔

منصور ھادی نے صلاح قائد الشنفرة کو وزیر ٹرانسپورٹ مقرر کیا، تاہم انہوں نے ایک غیر ملکی خبر رساں نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے اپنی نامزدگی یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ "میں جنوبی یمن میں علاحدگی کے لئے چلنے والی تحریک کی سپریم کونسل کا سربراہ ہوں۔ ہم حالت انقلاب میں عہدے قبول نہیں کر سکتے۔" کابینہ کی حالیہ اکھاڑ پچھاڑ میں ڈاکٹر محمد عبدالمجید قباطی وزیر اطلاعات مقرر کئے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ نامزد وزیر داخلہ حسین عرب معزول صدر علی عبداللہ صالح کے دور حکومت میں 1995 سے 2003 تک اسی عہدے پر کام کر چکے ہیں۔ اس کابینہ عبدالعزیز جباری صرف نئے وزیر شہری سروسز ہیں کہ ماضی میں کسی عہدے پر فائز نہیں رہے۔