.

"داعش مخالف مہم: عراق میں غیر ملکی فوج نامنظور"

امریکا کے خصوصی زمینی دستے بھیجنے کے اعلان پر عراقی وزیر اعظم کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو غیر ملکی بری فوج کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ داعش کے مقابلے کے لئے عراقی فورسز کو مدد فراہم کرنے کی خاطر امریکا کی جانب سے خصوصی دستے عراق بھیجنے کے امریکی اعلان پر تبصرہ کر رہے تھے۔

ایک سرکاری بیان میں حیدرالعبادی نے کہا کہ عراق کے کسی مقام پر غیر ملکی خصوصی یا کسی بھی نوعیت کے فوجی دستوں کی تعیناتی بغداد حکومت کی اجازت اور کوارڈی نیشن کے بغیر ممکن نہیں۔ اس معاملے میں ہر کسی کو عراق کے اقتدار اعلیٰ کا خیال رکھنا ہو گا۔

امریکا کا عراق میں خصوصی دستے بھیجنے کا اعلان

امریکا عراق میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے خصوصی آپریشنز فورسز کے دستے بھیجے گا جو شام کے سرحدی علاقے میں بھی جہادیوں کے خلاف کارروائیاں کرسکیں گے۔

یہ بات امریکی وزیردفاع آشٹن کارٹر نے منگل کے روز کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ خصوصی سریع الحرکت فورس عراقی اور کرد فورسز البیشمرکہ کی مدد کے لیے تعینات کی جائے گی مگر انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ عراق بھیجے جانے والے ان خصوصی فوجیوں کی تعداد کیا ہوگی۔

پنیٹاگان کے سربراہ نے کہا کہ ''یہ خصوصی دستے وقت کے ساتھ چھاپہ مار کارروائیاں کرسکیں گے ،یرغمالیوں کو رہا کراسکیں گے ،انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کریں گے اور داعش کے لیڈروں کو پکڑیں گے۔یہ فورس شام کے اندر بھی یک طرفہ طور پر کارروائیاں کرسکے گی''۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے قبل ازیں یہ کہا تھا کہ امریکا داعش کے جہادیوں کے خلاف جنگ کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی بوٹ عراق نہیں بھیجے گا اور اس کے بجائے داعش کے خلاف اپنی فضائی مہم میں تیزی لائے گا۔

انھوں نے اکتوبر کے آخر میں خصوصی فورسز کے پچاس اہلکاروں کو شام میں غیرجنگی کردار کے لیے بھیجنے کی منظوری دی تھی۔ان فوجیوں کا مشاورتی کردار ہوگا اور وہ داعش کے خلاف مقامی فوجیوں کی کارروائیوں کو مربوط بنانے میں مدد دیں گے۔

اب آشٹن کارٹر کا کہنا ہے کہ پینٹاگان شام میں ان امریکی فوجیوں کے کردار کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔انھوں نے عالمی برادری پر بھی زوردیا ہے کہ وہ آیندہ پیرس طرز کے حملوں کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردیں اور داعش کے خلاف جنگ میں مزید تعاون کریں۔

کانگریس کے ارکان داعش مخالف جنگ میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ دفاعی عہدے داروں کو آئے دن طلب کرتے رہتے ہیں۔کارٹر کے ساتھ امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف میرین جنرل جوزف ڈنفورڈ بھی پیش ہوئے ہیں۔جب ان سے کمیٹی میں سوال کیا گیا کہ کیا داعش کو مسدود کردیا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ''نہیں ہم داعش کو محدود نہیں کرسکے ہیں''۔

واضح رہے کہ عراق میں امریکا ،آسٹریلیا ،بیلجیئم ،کینیڈا ،ڈنمارک ،فرانس ،نیدر لینڈز اور برطانیہ کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں اور ان کی تنصیبات پر اگست 2014ء سے حملے کررہے ہیں جبکہ شام میں امریکا کے علاوہ بحرین ،اردن ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیارے داعش کے خلاف گذشتہ سال ستمبر سے فضائی مہم میں شریک ہیں۔ روس نے 30 ستمبر سے داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور فرانس پیرس حملوں کے بعد اس فضائی مہم میں شریک ہوا ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادی مغربی اور عرب ممالک کی اس جنگی مہم کا مقصد داعش کے جنگجوؤں کا خاتمہ کرنا اور ان کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینا ہے تاکہ عراق اور شام کے علاوہ مغربی دنیا کو داعش کے خطرے سے محفوظ بنایا جاسکے۔داعش نے شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر گذشتہ سال جون میں قبضے کے بعد سے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔

گذشتہ سوا ایک سال کے دوران امریکی اتحادیوں کو داعش مخالف فضائی مہم میں صرف یہ کامیابی ملی ہے کہ انھوں نے جہادیوں کی پیش قدمی روک دی ہے اور ان کی آزادانہ نقل وحرکت کو محدود کردیا ہے لیکن عراق میں برسرزمین سرکاری سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشائیں ابھی تک داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس نہیں لے سکی ہیں جبکہ شام میں داعش کی بیک وقت مقامی باغی جنگجو گروپوں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج سے الگ الگ لڑائی جاری ہے اور وہ مختلف محاذوں پر ایک دوسرے کے زیر قبضہ علاقوں کو چھیننے کے لیے محاذ آراء ہیں۔