.

ترکی روس کے ساتھ فوجی مواصلاتی چینلز کھولنے کو تیار

ہمیں بے بنیاد الزامات عاید کرنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر مل بیٹھنا چاہیے: اوغلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے ترکی اور روس کے درمیانی فوجی مواصلاتی چینل کھولنے کی ضرورت پر زوردیا ہے تاکہ مستقبل میں شام کے سرحدی علاقے میں روس کے لڑاکا طیارے کی تباہی ایسے واقعات کے اعادے سے بچا جاسکے۔

ترک وزیراعظم نے منگل کے روز شمالی قبرض کے دورے پر روانہ ہونے سےقبل انقرہ میں نیوز کانفرنس میں روس پر زوردیا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کو رونما ہونے سے روکنے کے لیے فوجی مواصلاتی چینلز کھولے اور سفارتی چینلز کو بھی بحال رکھے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں بے بنیاد الزامات عاید کرنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر مل بیٹھنا چاہیے۔داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ترکی اپنی سرحد کے ساتھ واقع شامی علاقے سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے اپنے لڑاکا طیارے کی تباہی کے ردعمل میں ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کردی ہیں اور کہا ہے کہ ترکی نے روسی جیٹ کو اس لیے مار گرایا تھا کیونکہ وہ داعش کے جنگجوؤں سے اپنے لیے تیل کی سپلائی کو تحفظ دینا چاہتا تھا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اپنے روسی ہم منصب کے اس دعوے کو مضحکہ خیز اور توہین آمیز قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔دونوں صدور نے پیرس میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس کے موقع پر ملاقات بھی نہیں کی ہے۔ترک صدر کا کہنا ہے کہ ان کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کرنے کا یہ ایک اچھا موقع تھا۔

گذشتہ منگل کے روز روس کے ایک لڑاکا جیٹ کو شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں ترکی کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے مار گرایا تھا۔صدر ایردوآن کے بہ قول اس طیارے کو ترکی کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا تھا مگر اس کا ملبہ شام کے سرحدی علاقے میں جا کر گرا تھا۔

روسی صدر کا مؤقف ہے کہ طیارے پر جب میزائل داغا گیا تو اس وقت وہ ترکی کے سرحدی علاقے سے ایک کلومیٹر دور شام کے علاقے میں فضا میں پرواز کررہا تھا اور اس کا ملبہ اس سے چار کلومیٹر دور شامی علاقے میں گرا تھا۔اس واقعے کے بعد سے دونوں ملکوں کے لیڈروں کے درمیان نرم اور گرم بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔