داعش کی وقتی شادیاں غیر اسلامی فعل ہیں: جامعہ الازہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کی معروف درسگاہ جامعہ الازہر نے انتہا پسند تنظیم 'داعش' سے وابستہ خواتین اور تنظیم کے جنگجوئوں کے درمیان 'وقتی شادی' اور بعد ازاں طلاق کو غیراسلامی قرار دے دیا ہے۔

جامعہ الازہر کے اعلان کے مطابق اسلام میں شادی اس وقت حلال تصور کی جاتی ہے جب اس کے 'نیک اور اعلیٰ مقاصد ہوں۔' اسلامی قوانین کے مطابق 'شادی ایک مرد اور عورت کے درمیان باہمی عزت اور عزم کا معاہدہ ہے۔'

الازہر آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ داعش کی جانب سے شام اور عراق کے علاقوں سنجار اور نینوی میں رہنے والی یزیدی خواتین پر جنسی حملے بھی اسلامی شرعی قوانین کے مطابق ناقابل برداشت رویے کا مظہر ہیں۔

داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ غلامی کے طریقوں کو ختم کرنے کے نتیجے میں معاشرے میں زناء پھیلتا رہے گا کیوںکہ اس کے علاوہ اور کوئی متبادل موجود نہیں ہے اور ماضی میں بھی کئی ممالک میں غلامی کا راج رہا ہے۔

الازہر کے مطابق اسلام نے عارضی شادیوں پر اس لئے پابندی لگائی ہے کیوںکہ ان سے اسلام میں عورت کو دیا جانے والا تشخص خراب ہوتا ہے اور عورت ایک مرد سے دوسرے کے ہاتھ بکنے والے سستے کھلونے کی مانند بن جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں