.

شامی اپوزیشن کی 65 شخصیات الریاض کانفرنس میں مدعو

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے شامی شخصیات کو دعوت نامے بھجوا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے شامی حزبِ اختلاف کی 65 شخصیات کو دارالحکومت الریاض میں آیندہ چند دنوں میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے تاکہ وہ مجوزہ شام امن مذاکرات سے قبل تنازعے کے حل کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرسکیں۔

دو عرب روزناموں الشرق الاوسط اور الحیات نے شامی حزب اختلاف کی شخصیات کو دعوت نامے جاری کیے جانے کی اطلاع دی ہے اور سعودی عرب کے بغیر نامی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابھی مجوزہ الریاض کانفرنس کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔البتہ یہ آیندہ ہفتے منعقد ہوسکتی ہے۔

الشرق الاوسط نے شامی قومی اتحاد کے رکن احمد رمضان کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے الریاض میں ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے جن شخصیات کو مدعو کیا ہے،ان میں شامی قومی اتحاد کے بیس اور قومی رابطہ کمیٹی کے سات ارکان شامل ہیں۔

ان کے بہ قول دس سے پندرہ نشستیں باغی لیڈروں کے لیے مختص کی گئی ہیں۔شام کی مذہبی شخصیات ،کاروباری لیڈروں اور آزاد نمائندوں کے لیے بیس سے پچیس نشستیں مختص کی گئی ہیں۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ شامی حزب اختلاف کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ کانفرنس کے سلسلے میں رابطے میں ہے اور اس نے یہ کانفرنس یکم جنوری تک شامی صدر بشارالاسد کی حکومت سے حزب اختلاف کے براہ راست مذاکرات کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کی غرض سے طلب کی ہے۔

الحیات کی رپورٹ کے مطابق قومی رابطہ کمیٹی کے شریک چئیرمین حسن عبدالاعظم نے سعودی وزارت خارجہ کو بائیس نامزد شخصیات کی ایک فہرست بھیجی ہے۔ان میں کرد ڈیمو کریٹک یونین کے سربراہ صالح مسلم بھی شامل ہیں۔صالح مسلم نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ شامی کرد الریاض میں حزب اختلاف کی کانفرنس میں سیاسی اور فوجی نمائندگی چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف اور باغی گروپوں کے درمیان ملک میں گذشتہ ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے اور وہ خاص طور پر صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے منقسم ہیں۔بعض گروپ بشارالاسد کی فوری رخصتی چاہتے ہیں اور ان کی اقتدار سے علاحدگی تک شامی حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گذشتہ ہفتے ابوظبی میں متحدہ عرب امارات کے حکام اور سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے ساتھ شامی حزب اختلاف کو اکٹھا کرنے کے طریقوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا تھا۔