.

ماں نے 38 برس قبل بچھڑا جگر گوشہ پہچان لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ارجنٹائن میں سنہ 1977ء فوجی آمریت کے دوران ماں سے اس کا چھینا گیا بچہ 38 بعد اسے مل گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے جرمن "ریڈیو کاڈینا 3" کے حوالے سےاپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 1977ء کے دوران فوجیوں نے شمالی ارجنٹائن کے توکمان علاقے سے ایک خاتون سے اس کا شیر خوار بچہ اس سے چھین لیا تھا جسے بعد ازاں پرورش کے لیے کسی اور خاندان کے سپرد کردیا گیا۔ بچہ جب بڑا ہوا تو اس نے اپنے والدین بالخصوص والدہ کی تلاش شروع کی تو وہ آخر کار اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔

اڑتیس سال بعد اپنی ماں سے ملنے والے بیٹے نے آٹھ سال قبل سنہ 2007ء میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم" کی مدد سے "ڈی این اے" کے ذریعے اپنی والدہ کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوا مگر وہ اپنے والدہ کے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے مسلسل تگ ودو کرتا رہا۔ اس دوران اس کی والدہ دو سال تک جیل میں بھی رہی تاہم وہ انسانی حقوق گروپ کی مدد سے اپنی والدہ کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ انسانی حقوق کی انجمن کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے 119 بچے اب بھی ایسے جو ملک کے دگرگوں سیاسی اور سماجی حالات کے پیش نظر اپنی مائوں سے بچھڑ گئے تھے۔

انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس کے مطابق سنہ 1976ء سے 1983ء تک ارجنٹائن میں فوجی آمریت کے عرصے میں 500 بچوں کو اغواء کیا گیا تھا بعد ازاں انہیں دوسرے لوگوں کو پرورش کے لیے دیا گیا اور ان کی جعلی شناخت قائم کی گئی۔ اس واقعے کے بعد اپنی حقیقی ماں باپ سے بچھڑنے والے افراد کو اپنے پیاروں کی تلاش کا نیا حوصلہ ملے گا۔