مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی نامنظور: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی حکومت نے مغرب میں پناہ گزینوں اور مسلمانوں کے خلاف پیدا ہونے والی حالیہ نفرت اور اس کے نتیجے میں دشمنی اور نسل پرستی کے مظاہر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ریاض حکومت نے مغرب میں مسلمانوں اور مسلمان ملکوں سے آنے والے پناہ گزینوں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ اور سیاسی سطح پر اختیار کیے گئے نسل پرستانہ مظاہر کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی عالمی تنظمیں اور عالمی ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے خلاف نفرت، دشمنی اور نسل پرستی کے واقعات کی روک تھام کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمان پناہ گزین اپنے ملک کی ظالم حکومتوں اور دہشت گرد تنظیموں سے تنگ آکر دوسرے ملکوں کو بجرت پرمجبور ہیں۔ انسانی جذبے کے تحت ان کی مدد کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ انہیں مسلمان سمجھ کرانتقامی کارروائیوں اور نسل پرستی کی بھینٹ چڑھانا کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

سوموار کے روز ریاض میں شاہ سلمان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاسد کے دوران بھی مغربی ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف جاری منافرت پرمبنی پالیسی پربحث کی گئی۔

بعد ازاں کابینہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مصر کے شہر العریش، لیبیا کے الخمیس اور تیونس کے ریپبلیکن گارڈز کی بس پر دہشت گردوں کے حملے کی بھی مذمت کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں