.

"ترکی روس کی 'جذباتی' پابندیوں کا جواب نہیں دے گا"

روسی اقدامات ریاستی وقار کے منافی ہیں، ترکی اپنا وقار برقرار رکھے ہوئے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کی عاید کردہ ''جذباتی'' پابندیوں کا جواب نہیں دے گا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات میں مزید بگاڑ نہیں چاہتے ہیں۔

صدر ایردوآن نے ترک صحافیوں کے ساتھ بدھ کے روز شائع ہونے والے ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ ''روس ہمارا تزویراتی شراکت دار ہے،ہمیں انھیں خوراک سمیت اپنی مصنوعات کی درآمدات کا سلسلہ جاری رکھیں گے''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''روس کے اقدامات ریاستی وقار کے منافی ہیں۔ترکی اس ضمن میں اپنا وقار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ہم ان کی طرح کی زبان استعمال نہیں کررہے ہیں۔ہم ان سے (روسی قیادت سے) یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی زبان کو تبدیل کریں''۔

ترک صدر نے کہا کہ ماسکو نے طیارے کی تباہی کے واقعے کے ردعمل میں جذباتی انداز میں اقدامات کیے ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ ترکی میں مقیم روسی شہریوں کے خلاف کسی اقدام کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جوابی ردعمل قانون کی حدود ہی میں رہ کر ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ روس ترکی کو اس کی گیس کی ضروریات کا نصف فی صد سے زیادہ مہیا کرتا ہے لیکن صدر ایردوآن کا کہنا ہے کہ انھیں روس کی جانب سے گیس کی برآمدات کی بندش کے حوالے سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہماری ساری زندگی قدرتی گیس کے سہارے تو زندہ نہیں رہے ہیں۔یہ قوم مشکلات جھیلنے کی عادی ہے اور ترکی کے پاس روس کے علاوہ بھی گیس کے برآمد کنندگان ہیں''۔

ترک صدر نے انٹرویو میں کہا کہ ''روسی صدر ولادی میر پوتین ماضی میں میرے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں۔وہ مجھے حوصلہ مند اور دیانت دار سربراہ ریاست قرار دے چکے ہیں''۔

ترک صدر کے اس مفاہمانہ طرز عمل کے جواب میں روس کی جانب سے آج یہ جواب آیا ہے کہ اس کی وزارت دفاع نے صدر ایردوآن اور ان کے خاندان پر سیدھے سبھاؤ داعش کے ساتھ تیل کی غیر قانونی تجارت میں ملوّث ہونے کا سنگین الزام عاید کردیا ہے۔

روس کے نائب وزیردفاع اناطولی انتونوف نے ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ''شام اور عراق سے چُرائے گئے تیل کا مرکزی صارف ترکی ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت یعنی صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کا خاندان اس مجرمانہ کاروبار میں ملوّث ہیں''۔

روسی وزارت دفاع کے بعض دوسرے اعلیٰ عہدے داروں نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس اس الزام کے حق میں ثبوت موجود ہیں۔انھوں نے اس ضمن میں بعض سیٹلائٹ تصویر کا حوالہ دیا ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے تیل کے ٹینکر ترکی کی جانب جا رہے ہیں۔ان روسی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ تین ایسے راستوں کے بارے میں جانتے ہیں جن کے ذریعے تیل ترکی پہنچایا جاتا رہا ہے۔

درایں اثناء روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ''وہ اپنے ترک ہم منصب مولود کاوس اوغلو سے ملاقات کے لیے تیار ہیں اور وہ بلغراد میں تنظیم برائے سلامتی اور تعاون یورپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر مل بیٹھیں گے اور ان سے سنیں گے کہ وہ کیا کہتے ہیں''۔