.

روس کا ایردوآن خاندان پر داعش سے تیل کی تجارت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے خاندان پر داعش کے ساتھ تیل کی غیر قانونی تجارت میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

روس کے نائب وزیردفاع اناطولی انتونوف نے بدھ کو ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ترک صدر اور ان کے خاندان پر یہ سنگین الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ ''شام اور عراق سے چُرائے گئے تیل کا مرکزی صارف ترکی ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت یعنی صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کا خاندان اس مجرمانہ کاروبار میں ملوّث ہیں''۔

روس کی وزارت دفاع کے بعض دوسرے اعلیٰ عہدے داروں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس اس الزام کے حق میں ثبوت موجود ہیں۔انھوں نے اس ضمن میں بعض سیٹلائٹ تصویر کا حوالہ دیا ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے تیل کے ٹینکر ترکی کی جانب جا رہے ہیں۔ان روسی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ تین ایسے راستوں کے بارے میں جانتے ہیں جن کے ذریعے تیل ترکی پہنچایا جاتا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے یہ بھی کہا ہے کہ شام میں داعش کے تیل کے انفرااسٹرکچر پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔روسی لڑاکا طیاروں نے حالیہ ہفتوں کے دوران شام میں تیل لے کر جانے والے سیکڑوں ٹینکر تباہ کیے ہیں۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے اپنے لڑاکا طیارے کی شام کے سرحدی علاقے میں تباہی کے ردعمل میں ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عاید کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ترکی نے روسی جیٹ کو اس لیے مار گرایا تھا کیونکہ وہ داعش کے جنگجوؤں سے اپنے لیے تیل کی سپلائی کو تحفظ دینا چاہتا تھا۔

ترکی نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ روس کی جانب سے عاید کردہ ''جذباتی''پابندیوں کے ردعمل میں کوئی اقدام نہیں کرے گا۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن اپنے روسی ہم منصب کے مذکورہ دعوے کو مضحکہ خیز اور توہین آمیز قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔گذشتہ منگل کے روز روس کے ایک لڑاکا جیٹ کو شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں ترکی کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے مار گرایا تھا۔اس واقعے کے بعد سے دونوں ملکوں کے لیڈروں کے درمیان نرم اور گرم بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور ان میں سخت کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔