.

لیبیا کی غیرتسلیم شدہ کابینہ میں رد وبدل

جنرل نیشنل کانگریس نے وزارتوں کی تعداد 24 سے کم کر کے 12 کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں بین الاقوامی سطح پر غیر تسلیم شدہ حکومت نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کیا ہے اور وزارتوں کی تعداد کم کردی ہے۔البتہ وزیراعظم خلیفہ غویل کو برقرار رکھا گیا ہے۔

لیبیا کی قومی اسمبلی ( جنرل نیشنل کانگریس ) کے ایک ذریعے کے مطابق کانگریس نے منگل کے روز کابینہ میں ردو بدل کی منظوری دی ہے جس کے تحت وزراء کی تعداد چوبیس سے کم کر کے بارہ کردی گئی ہے۔وزیراعظم ان کے علاوہ ہیں۔

اس ذریعے کا کہنا ہے کہ ''اس طرح کی محدود حکومت دراصل کانگریس کے نزدیک ایک بحرانی کابینہ ہے''۔طرابلس کی کابینہ میں یہ ردو بدل ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب لیبیا کو اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔

لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان کام کررہی ہیں۔دارالحکومت طرابلس میں اسلامی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کی حکومت ہے اور ملک کے مشرقی علاقوں میں وزیراعظم عبداللہ الثنی کی قیادت میں حکومت کی عمل داری ہے۔اس کے دفاتر مشرق شہر طبرق میں قائم ہیں۔

عبداللہ الثنی کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کا دارالحکومت طرابلس اور ملک کے مغربی علاقوں میں کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ان دونوں حکومت کے زیر اثر مسلح ملیشیاؤں کے درمیان ایک دوسرے کے علاقوں پر قبضے کے لیے مسلح جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔اب حالیہ مہینوں کے دوران لیبیا میں داعش کے ظہور کے بعد عالمی برادری ملک کے مستقبل کے حوالے سے سے اپنی تشویش کا اظہار کررہی ہے۔