.

موت سامنے دیکھ کر القاعدہ کی سعودی عرب کو 'دھمکیاں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرگرم جزیرہ نما عرب میں سرگرم القاعدہ نے سعودی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اُس کے کارکنوں کو موت کی سزا دینے سے گریز کرے۔ القاعدہ کی ذیلی شاخ نے کہا ہے کہ اگر اُس کے کارکنوں کو سزا دی گئی تو ریاض سے انتقام لیا جائے گا۔

بعض سعودی حکومتی ذرائع کے مطابق اگلے ایام میں سعودی حکومت موت کی سزا کے منتظر چار درجن سے زائد قیدیوں کی سزا پر عمل کرنے والی ہے۔ ان میں القاعدہ کے کئی سرگرم کارکن بھی شامل ہیں، جن کو سعودی عدالتوں نے دہشت گرد قرار دے کر موت کی سزا سنائی تھی۔ مقید عسکریت پسند کئی دہشت گردانہ واقعات میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ دہشت گرد تنظیم کے گلوبل نیٹ ورک میں انتہائی سفاک تصور کی جاتی ہے اور اِس کے کارکن خونریزی سے گریز نہیں کرتے۔ سعودی حکومت کو دھمکی آمیز پیغام میں ’خدا کی قسم کھا کر یہ عہد کیا گیا ہے کہ اُن کے مقید افراد کا مقدس خون جمنے سے قبل ہی سعودی عرب کے فوجیوں پر خون کی بارش شروع کر دی جائے گی‘۔

گذشتہ ہفتے کے دوران میڈیا کے ذریعے یہ اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ ریاض حکومت موت کی سزا کے منتظر پچاس قیدیوں کو ایک ہی دن سزا دینے کا پلان کر رہی ہے۔ ایسے تمام قیدیوں کو دہشت گردانہ الزامات کے تحت موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اب تک سعودی حکومت نے القاعدہ کے صرف دو مجرموں کی موت کی سزا پر عمل رواں برس کے اوائل میں کیا تھا۔ یہ دونوں افریقی ملک چاڈ کے شہری تھے اور یہ مختلف دہشت گردانہ حملوں میں بے شمار لوگوں کو ہلاک کر چکے تھے۔

یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دو روز قبل اتوار کی شام میں تین سعوی فوجی یمن کی سرحد پر فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہو گئے تھے۔ سعودی نیوز ایجنسی ایس پی اے نے حملہ آوروں کو 'دشمن عناصر 'سے تعبیر کیا ہے۔ فائرنگ کا تبادلہ جازان صوبے کے حارث ضلع کے نواح میں ہوا۔ سعودی نیوز ایجنسی کے مطابق دشمن عناصر یمنی سرحد عبور کر نے کی کوشش میں تھے اور اِس دوران انہوں نے اوپی پوسٹ پر کھڑے فوجیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔