.

برطانیہ کے شام میں داعش مخالف فضائی حملوں کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے لڑاکا طیاروں نے پارلیمان کی منظوری کے بعد شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے ٹھکانوں پر بمباری کا آغاز کر دیا ہے۔

برطانوی پارلیمان میں بدھ کی رات شام میں داعش کے خلاف فضائی مہم کی اجازت سے متعلق قرارداد پر دس گھنٹے تک بحث ہوتی رہی تھی۔پارلیمان میں موجود 397 ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور 223 نے اس کی مخالفت کی ہے۔

پارلیمان میں منظوری کے چند گھنٹے کے بعد ہی برطانیہ کے چار لڑاکا جیٹ نے قبرص میں واقع آر اے ایف اکروٹری ائیربیس سے اڑان بھری تھی۔برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے عینی شاہد کے حوالے سے ان لڑاکا طیاروں کے اڑان بھرنے کی اطلاع تو دی تھی لیکن اس نے ان کی منزل کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی ہے۔البتہ برطانوی حکومت کے ایک ذریعے نے جمعرات کی صبح اطلاع دی ہے کہ برطانوی طیاروں نے شام میں داعش کے خلاف پہلا فضائی حملہ کیا ہے۔

قبل ازیں برطانوی وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ نے سکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''برطانیہ آج کی رات دارالعوام کے فیصلے کی وجہ سے محفوظ ہوگیا ہے''۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ارکان پارلیمان پر زوردیا تھا کہ وہ برطانیہ کے اتحادیوں کی مشکل کی اس گھڑی میں ساتھ دیں اور عالمی امور میں ملک کے کردار کو بحال رکھنے کے لیے قرار داد کی منظوری دیں۔

دارالعوام میں داعش مخالف جنگ کے لیے قرارداد پر بحث کے دوران لندن کی سڑکوں پر جنگ مخالف شہری مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو مشرق وسطیٰ میں جاری ایک اور جنگ میں نہیں کھینچا جانا چاہیے۔

بہت سے برطانوی شہریوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق اور لیبیا میں مغرب کی جنگی مداخلت کی وجہ سے پورا خطہ ہی جنگ کی لپیٹ میں آچکا ہے اور اس وقت ان ممالک میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔وہ داعش کو اس جنگ زدہ ابتر ماحول کی پیداوار قرار دیتے ہیں۔

داعش کے خلاف جنگ میں برطانیہ کی شرکت کے لیے قرارداد کی منظوری کے فوری بعد برطانوی پارلیمان کے باہر درجنوں افراد نے مظاہرہ کیا۔واضح رہے کہ 13 نومبر کو پیرس میں دہشت گردی کے حملے کے بعد دارالعوام کے بعض ارکان نے سخت موقف اختیار کیا تھا اور وہ عراق کی طرح شام میں بھی داعش کے خلاف امریکا کی قیادت میں جنگ میں شرکت کے حق میں تھے۔پیرس حملوں کی داعش نے ذمے داری قبول کی تھی اور ان میں ایک سو تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

شام میں داعش مخالف مہم میں برطانیہ کی شرکت کے معاملے میں اپوزیشن لیبر پارٹی میں بھی پھوٹ پڑ گئی تھی اور اس کے بعض ارکان بھی اس کی اجازت دینے کے حق میں تھے جس کی وجہ سے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پُراعتماد تھے کہ وہ دارالعوام سے منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

کیمرون کا کہنا تھا کہ شام میں گذشتہ ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی کو صرف فوجی کارروائی کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن فضائی حملوں سے داعش کے جنگجوؤں پر کاری ضرب لگے گی اور ان کی جنگی صلاحیت کم ہوکر رہ جائے گی۔

انھوں نے پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ دہشت گرد ہمیں ہلاک کرنے اور ہمارے بچوں کو سخت گیر بنانے کی سازش کررہے ہیں۔وہ ہم پر اس لیے حملہ آور ہوتے ہیں کہ ہم کون ہیں،وہ اس لیے ہم پر حملے نہیں کرتے ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں''۔