.

انتہا پسند بھارتی وزیر مسلمانوں کی تعلیم کے دشمن ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں ان دنوں انتہا پسند ہندو مسلمان فوبیا کا کچھ ایسے شکار ہوئے ہیں کہ اُنہیں چاروں طرف بھوت کا روپ دھارے خوفناک قومی مسائل سے کہیں زیادہ مسلمانوں کا وجود ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ اس کا اندازہ روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والے واقعات سے ہو رہا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کے خلاف نفرت میں نہ صرف انتہا پسند ہندو تنظیمیں پیش پیش ہیں بلکہ اس باب میں حکومت کے وزیر مشیر بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بھارت کے وزیر تعلیم "کیدار کشیف" نے مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت کا زہر اگلتے ہوئے مسلمان بچوں کو زیور تعلیم سے محروم رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ کیدار کے اس بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں سے زیادہ گائے کی عزت ہے اور مسلمان گائے سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔

ریاست چندی گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان بچوں کو حصول تعلیم کا کوئی حق نہیں۔ میں تمام تعلیمی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مسلمان بچوں کی تعلیمی رہ نمائی مسترد کرتے ہوئے اسکولوں ، کالجوں اور جامعات سے مسلمان طلباء کو نکال باہر کریں۔

مسٹر کیدار کشیف نے اپنے حامیوں اور معاونین سے کہا کہ وہ مسلمان بچوں کو اسکولوں میں لانے کی مخالفت کریں اور تمام سرکاری اداروں سے مسلمان بچوں کا جلد ازجلد اخراج کیا جائے۔

انتہا پسند بھارتی وزیر کے اس اشتعال انگیز بیان پر ریاست چندی گڑھ کے مسلمان طلباء اور اساتذہ سمیت عام شہریوں نے بھی سخت احتجاج کیا ہے۔ رائے پور میں منعقدہ ایک احتجاجی ریلی میں مسلمان مرد و خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور وزیر موصوف کے بیان کو اشتعال انگیز قراردیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ مظاہرین نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے انتہا پسند وزیر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔