.

ترکی ہمارا طیارہ گرانے پر پچھتائے گا: ولادی میر پوتین

روس انقرہ کی ''دہشت گردوں'' کے لیے امداد کو نظرانداز نہیں کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے ترکی کے خلاف تند وتیز بیانات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انھوں نے جمعرات کو اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ترکی شام کی سرحد کے نزدیک ہمارا لڑاکا جیٹ گرانے پر ایک سے زیادہ مرتبہ پچھتائے گا۔

انھوں نے جمعرات کے روز روسی قوم سے اپنے سالانہ خطاب میں کہا ہے کہ ماسکو انقرہ کی جانب سے دہشت گردوں کی امداد کو نظرانداز نہیں کرے گا۔ان کا اشارہ ترکی اور مغربی ممالک کی شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار باغی گروپوں کے لیے امداد کی جانب تھا۔

انھوں نے مغرب کو مخاطب کرکے کہا کہ ''ممالک کو دہشت گردی کے بارے میں دُہرے معیارات نہیں اپنانے چاہییں یا دہشت گرد گروپوں کو اپنی ضروریات کے مطابق استعمال نہیں کرنا چاہیے''۔

واضح رہے کہ شامی صدر بشارالاسد اور ان کی حکومت سرکاری فوج کے خلاف جنگ آزما تمام باغی گروپوں اور ملیشیاؤں کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آرہے ہیں اور روسی صدر نے بھی شام ہی کے مؤقف کی ترجمانی کی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ منگل کے روز روس کے ایک لڑاکا جیٹ کو شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں مارگرائے جانے کے بعد سے سخت کشیدگی پیدا ہوچکی ہے اور ان کے لیڈروں کے درمیان نرم اور گرم بیانات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے اور روس نے ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں بھی عاید کردی ہیں۔

روسی صدر اور ان کے ماتحت دوسرے عہدے دار تو سخت لب ولہجے میں بات کررہے ہیں لیکن ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو دو طرفہ کیشدگی کو کم کرنے کے لیے نرم بیانات جاری کررہے ہیں۔ ترک صدر نے بدھ کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا ملک روس کی عاید کردہ ''جذباتی'' پابندیوں کا جواب نہیں دے گا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات میں مزید بگاڑ نہیں چاہتے ہیں۔

صدر ایردوآن کا کہنا تھا کہ ''روس کے اقدامات ریاستی وقار کے منافی ہیں۔ترکی اس ضمن میں اپنا وقار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ہم ان کی طرح کی زبان استعمال نہیں کررہے ہیں۔ہم ان سے (روسی قیادت سے) یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنی زبان کو تبدیل کریں''۔