.

'جدہ ٹاور' 2020ء میں ایک کلومیٹر تک فضا میں بلند ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں دنیا کی بلند ترین عمارت کی تعمیر کا منصوبہ اب اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کیونکہ 2.2 بلین ڈالرز کے اس منصوبے کے لیے فنڈز جاری کردیے گئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھرتعمیرات کے ایک ریکارڈ توڑ اور انجینئرنگ کے شاہکار کا مسکن بننے جا رہا ہے جو تکمیل پر جدہ ٹاور کہلائے گا۔ یہ ایک کلومیٹر بلند ہوگا یعنی 3280 فٹ۔ یہ دبئی میں واقع اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ سے 173 میٹر یعنی 568 فٹ زیادہ بلند ہوگا۔ برج خلیفہ کی بلندی 828 میٹر ہے۔

رواں ہفتے کے اوائل میں حکومت سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ ڈیولپر جدہ اکنامک کمپنی اور النما انوسٹمنٹ کے درمیان معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور یوں منصوبے کی منظوری دی جا چکی ہے۔

مشرقی سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں یہ عمارت مختلف استعمال کے لیے ہوگی اور اس میں 7 منزل کا فور سیزنز ہوٹل بھی شامل ہوگا جس میں 200 کمرے ہوں گے۔ اس کے علاوہ 7 منزل پر دفاتر، 121 اپارٹمنٹس، 318 مختلف اقسام کے رہائشی یونٹ، اور زمین سے 660 میٹر پر واقع دنیا کی بلند ترین رصد گاہ شامل ہوگی۔

اردگرد کے صحرائی ماحول سے متاثرہ ڈیزائن ایڈرین اسمتھ اور گورڈن گل آرکی ٹیکچر نے تیار کیا ہے جو کھجور کے ایک نومولود پودے کی شاخ جیسی نظر آتی ہے۔ یہ نئی زندگی اور نئی ترقی کا تصور ہے۔

ایک سو ستر منزلہ عمارت کو لفٹ کے ایک زبردست نظام کی ضرورت ہوگی۔ جس کے لیے کل 59 لفٹیں، پانچ دو منزلہ لفٹیں اور 12 متحرک زینے لگائے جائیں گے جو اس عمارت میں موجود افراد کو آنے جانے میں مدد دیں گے۔ لفٹیں 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے افراد کو رصد گاہ تک لے جائیں گی۔ ایک آسمانی چبوترہ 157 ویں منزل پر ہوگا جو بلاشبہ بادلوں کے اندر کھلے گا۔

جدہ ٹاور ایک بڑے منصوبے جدہ اکنامک سٹی کا حصہ ہوگا جو 5.3 ملین مربع میٹر کے رقبے پر پھیلا ایک جدید علاقہ ہوگا جو کاروباری و سیاحتی مرکز کی حیثیت رکھے گا۔

ساحل سمندر پر واقع یہ علاقہ شاندار شاپنگ مال، زبردست ہوٹل، کھلے مقامات، رہائشی اور کاروباری علاقے اور ساحل پر تفریح کے علاقے رکھے گا۔ جدہ ٹاور 2020ء تک مکمل ہو گا۔