.

روس نے ایران کو میزائل دفاعی نظام کی ترسیل شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے اپنے اتحادی ملک ایران کو ایس 300 فضائی دفاعی نظام کی ترسیل شروع کردی ہے۔

روس کی تاس نیوزایجنسی نے صدر ولادی میر پوتین کے مشیرولادی میر کوژین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کو ایس 300 فضائی دفاعی نظام مہیا کرنے کے لیے معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

روس اور ایران کے درمیان گذشتہ ماہ اس میزائل دفاعی نظام کی ترسیل کے لیے حتمی معاہدہ طے پایا تھا اور اس پر بعض خلیجی ریاستوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا لیکن تب روس کے سرکاری دفاعی پیداواری کے ادارے روٹیک کے چیف ایگزیکٹو سرگئی چیمزوف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''خلیجی ممالک کو اس معاہدے سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ دفاعی سامان ہے اور ہم کسی بھی ملک کو اس کی فروخت کی پیش کش کرنے کو تیار ہیں''۔

واضح رہے کہ روس نے سنہ 2007ء میں ایران کے ساتھ اسّی کروڑ ڈالرز مالیت کا دفاعی معاہدہ کیا تھا۔اس کے تحت اس نے ایران کو ایس 300 میزائل سسٹم مہیا کرنا تھا لیکن اس نے بعد میں امریکا اوراسرائیل کے سخت دباؤ پر ایران کو اس میزائل نظام کی فروخت معطل کردی تھی۔

لیکن اسی سال کے اوائل میں روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایران کو یہ جدید میزائل دفاعی نظام مہیا کرنے کے لیے پابندی ختم کرنے کی منظوری دے دی تھی۔روس کی جانب سے اس پابندی کے خاتمے کے بعد وائٹ ہاؤس نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ اس فیصلے سے ایران پر عاید پابندیوں کے حوالے سے تحفظات پیدا ہوسکتے ہیں۔

قبل ازیں روس کی جانب سے ایس 300 میزائل دفاعی نظام کی ترسیل روکے جانے کے بعد ایران نے جنیوا میں قائم ایک عدالت میں کریملن حکومت کے خلاف چار ارب ڈالرز ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا تھا۔اس دعوے پر روس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پرعاید کردہ پابندیوں کے بعد اس کو ایس 300 میزائل نظام کی فروخت منجمد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی میں ویانا میں جوہری تنازعے پر کئی روز کے مذاکرات کے بعد تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کی صلاحیت کو محدود کردے گا اور وہ اس سے بم تیار نہیں کرسکے گا جبکہ اس پر عاید بین الاقوامی پابندیاں ختم کی جارہی ہیں اور بعض کردی گئی ہیں۔روس اور ایران شام میں داعش اور دوسرے باغی جنگجو گروپوں کے خلاف جنگ میں بھی اتحادی ہیں اور وہ صدر بشارالاسد کی حمایت سفارتی ،فوجی ،مالی اور سیاسی امداد میں پیش پیش ہیں۔